مولانا مرحوم حضرت محی السنۃ مولانا الشاہ ابرارالحق صاحبؒ ہردوئی کے اجل خلفا میں تھے۔ساری عمر دعوۃ الحق ہردوئی سے منسلک رہے۔ نماز جنازہ اور تدفین راجدھانی بھوبنیشور کے عام قبرستان میںہوئی۔ جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند ، علماء وطلباء نے شرکت کی۔
بستی (محمدابو حذیفہ): حضرت ہردوئی کے خلیفہ اجل ومدرسہ جامع العلوم بھوبنیشور (اُڈیشہ) کے صدر ومشہور عالم دین اور وقت کے ولی کامل مولانا محمداطہر مظاہری بستوی کا مختصر علالت کے بعد گذشتہ شب (بعمر ۹۵؍سال) انتقال ہوگیا۔بروز جمعرات ۱۵:۳؍بجے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد بھوبنیشور کے عام قبرستان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میںمولانا مرحوم کو نم آنکھوں سے سپرد خاک کیاگیا۔
مولانا مرحوم کے قریبی رشتہ دار حافظ انصاراللہ قاسمی استاذ دارالعلوم الاسلامیہ بستی نے مولانا کے انتقال کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ مولانا محمد اطہر مظاہری رحمۃ اللہ علیہ کا آبائی وطن موضع کیتھولیا(ضلع سنت کبیرنگر) تھا ۔آپ گائوں کے ایک دینداراور معزز خاندان سے تھے، آپ کی ابتدائی تعلیم مدرسہ جعفریہ ہدایت العلوم کرہی میں ہوئی اور فراغت مظاہر علوم سہارنپور سے ہوئی۔ زمانہ طالب علمی میں آپ کے ہم وطن مظاہر علوم کے ناظم کتب خانہ مولانا علیم اللہ ؒ نے سرپرستی فرمائی۔ درس نظامی سے فراغت کے ایک سال بعد والد محترم کے حکم پر حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعوۃ الحق سے منسلک ہوکر تدریس کا آغاز کیا، ضلع ہردوئی کے موضع اسہی اعظم پور اور کھجونہ میں ۲۶؍سال رہے ،بعدہ حضرت ہردوئی کے حکم پر نور مسجد گوئنڈی میں دس سال تدریسی خدمات انجام دیئے، اس کے بعدپھر حضرت کے حکم پراُڈیشہ کی راجدھانی بھوبنیشور میں واقع مدرسہ جامع العلوم تشریف لے گئے اور تاحیات تقریباً ۴۰؍ سال وہاں درس وتدریس میں مصروف رہے۔
حافظ انصاراللہ قاسمی نے کہا کہ حضرت ایک کہنہ مشق تجربہ کار متقی عالم دین تھے، حضرت کے زمانہ صدارت میں اراکین مدرسہ کے تعاون سے مدرسہ نے خوب ترقی کی ۔شہر کی نئی آبادی میں عربی فارسی کیلئے مستقل ایک ادارہ قائم کیا، اہل اُڈیشہ نے حضرت کی خوب قدر ومنزلت کی اور اپنی سعادت سمجھ کر حضرت سے وابستہ رہے ، صرف اڑیسہ ہی میں آپ کے ہزاروں شاگرد دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تقریباً ۱۵؍سال قبل ہارٹ کا بڑا آپریشن ممبئی میں ہواتھا، آپ ماشاء اللہ صحت مند تھے ۔حضرت مولانا پر بڑی آزمائش اور مشکل حالات بھی آئے ۱۹۸۹ سے ۱۹۹۳کے درمیان ان کے دونوں بیٹے مولانا محمد احمد و حافظ محمد اسعد کا تقریباً ۴۵/۴۰؍سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ بیٹی آمنہ خاتون ملت نگر ممبئی میں با حیات ، خوش حال اور صاحب اولاد ہیں۔مولانا چھوٹی بہو اور پوتیوں کے ساتھ جامع العلوم بھوبنیشورمیں ہی میں مقیم تھے ۔ انہوں نے چار پوتیوں کی شادی اُڈیشہ ہی میں کی تھی جو ماشاء اللہ سبھی خوشحال اور صاحب اولاد ہیں۔
حافظ انصاراللہ نے بتایا کہ حضرت کو پانچ بار حج اور کئی عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی ، آخری عمر میں ضعف کے باوجود گذشتہ ماہ عمرہ کیلئے تشریف لے گئے اور ۲۰؍اکتوبر ۲۰۱۹ء کو واپس تشریف لائے ۔اور آج ۱۴؍نومبر ۲۰۱۹ء کو ۱؍بجے شب معمولی علالت کے بعد علم ومعرفت کا یہ روشن چراغ ہمیشہ کیلئے گل ہوگیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)
تدفین راجدھانی بھوبنیشور کے عام قبرستان میںہوئی ،ہزاروں عقیدت مندوں علماء وطلباء نے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔شرکاء کی کثیر تعداد کی وجہ سے کندھا دینے کے لئے چارپائی میں پائپ باندھا گیا۔نماز جنازہ سوا تین بجے حضرت ہردوئی کے خلیفہ الحاج اظہر کریم کی اقتداء میں ادا کی گئی اور تقریباً ۴۰؍منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد جنازہ قبرستان پہونچا جہاں ہزاروں سو گواروں نے اپنی نم آنکھوں سے وقت کے ولی کامل کو سپرد خاک کیا اور دعا مغفرت کی، اللہ تعالیٰ تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اہل اُڈیشہ کو ان کی عقیدت ومحبت اورخدمات کا بہتر صلہ دے۔
No comments:
Post a Comment