( پریس ریلیز)
![]() |
تحفظ شریعت کانفرس میں شریک خواتین اسلام
|
بستی:انجمن رضائے مصطفیٰ بستی کے زیر اہتمام آج بروز اتوار صبح ۱۰؍بجے گاندھی نگر واقع بیگم خیر گرلس انٹر کالج بستی میںتحفظ شریعت کانفرس کا انعقاد کیا گیا،جس میں طلاق ثلاثہ کے موضوع پر معلمات نے خواتین اسلام کے سامنے تفصیل سے رودشنی ڈالی ، کانفرس کی صدارت معلمہ حمیرہ خاتون نے کی،کانفرس کی ابتداء صفیہ خاتون کی تلاوت کلام اللہ سے ہوئی ، کانفرس میں مختلف اضلاع سے آئیں معلمات نے حصہ لیا اور کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جامعۃ الزہرہ دساواں سے آئی معلمہ شہر بانو نے کہا کہ اسلام میں عورتوں کا حق پوری طرح سے محفوظ ہے، اس میں کسی طرح کا دخل ہمیں قطعی برداشت نہیں ہے، جمدا شاہی سے آئی معلمہ ام سلمیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں داخل سائرہ بانو کس کا فیصلہ دیکھنے پر یہ بات واضح ہوگی کہ میڈیا کے ذریعہ لوگوں تک غلط بات کی اشاعت کی گئی ، جب کہ سائرہ بانو کے شوہر نے معاملات کو ہر ممکن حل کرنے کی کوشش کی، بہرائچ سے تشریف لائیں معلمہ شافیہ خاتون نے کہا اسلام میں عورتوں کو جنتا عزت واحترام اور حق دیا اور کسی مذہب نے نہیں دیا، اسلام نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا پیغام دیا ہے، شوہر اور بیوی کو آپسی اختلافات کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے، اختلاف بڑھنے پر صلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اور تب بھی ایک ساتھ رہنا ممکن نہ ہوتو اسلامی طریقہ سے طلاق دے کر الگ ہوجائیں، تین طلاق ایک ساتھ قطعی نہ دیا جائے، اگیا سنت کبیر نگر سے آئیںمعلمہ طیبہ نے کہا کہ تین طلاق پر سرکار کے ذریعہ بل پیش کرنا مسلم عورتوں کے ساتھ ہمدردی نہیں بلکہ ان کا استحصال ہے، اور اس کے آڑ میں حکومت وقت مسلمان مردوں کو بغیرکسی قصور کے جیل کی سلاخوں میں ڈالنا چاہتی ہے۔
اس کے علاوہ کانفرس سے صفیہ خاتون، کنیز حبشہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، ام خیر فاطمہ ، سکینہ بانو، ام کلثوم، مبشرہ ، آسیہ ، رخسار وغیرہ نے نعت پیش کرکے کانفرس کو رونق بخشی ،منعقدہ کانفرس میں کپتان گنج ، گنیش پور، والٹر گنج، نگر بازار، سنت کبیر نگروغیرہ کی عورتوں نے شرکت کی، یہاں پر خواتین نے شریعت کے قانون پر قائم رہنے کا عہد بھی کیا، اورحکومت ہند سے شریعت میں مزید مداخلت نہ کرنے کی اپیل کی،پرگروام کا اختتام سلاۃ وسلام پر ہوا،اس موقع پر انجمن رضائے مصطفی کے منیجر الحاج جی ایم خان نے سبھی شرکائے خواتین ومہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔
https://sadaehaquebasti.blogspot.in

No comments:
Post a Comment