از: مولانا فضل الرحمن قاسمی بستوی
اســـــلام کے بنیادی ارکان میں روزہ بھی ایک اہم رکن ہے جسے مسلمان برابر ذوق وشوق سے اداکرتے رہے روزہ کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے ہی سے ہوگئی تھی اور یہ سلسلہ خاتم الاانبیاء ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر قوم وملت میں روزے کا وجود کسی نہ کسی شکل میں ملتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے کے بعد تیرہ سال تک مکہ معظمہ ہی میں لوگوں کو خدائے پاک کا حکم سناتے رہے پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے احکام آنے شروع ہوئے اسلام کے ارکان مین سب سے پہلے نماز فرض ہوئی ، پھر زکوٰۃ فرض ہوئی ، اس کے بعد روزہ فرض ہوا ۔ اولاً سب سے پہلے عاشورہ یعنی محرم کی دس تاریخ کا روزہ فرض تھا۔ ہجرت سے ڈیڑھ سال بعد دس شعبان المعظم ۲ھ کو مدینہ المنورہ میں رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا ا ب ان کے علاوہ کوئی روزہ فرض نہ رہا یہ کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ (کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج:۱، ص: ۸۷۲)
روزے کا حکم: رمضان المبارک کے پورے روزے ہر عاقل ، بالغ، مقیم (جومسافر نہ ہو) مرد اور عورت جس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو فرض عین ہے جب تک کوئی عذر نہ ہو روزہ چھوڑنا درست نہیں لیکن اگر عورت کو حیض ونفاس آتا ہو اس کو روزہ نہ رکھنا چاہئے بعد میں اس کی قضا رکھے اسی طرح جب معذور کا عذر ختم ہوجائے گا تووہ بھی قضا رکھے ۔ ( عالمگیری ص: ۱۹۵، ج: ۱)
روزہ کی فضیلت: یہی وہ متبرک مہینہ ہے جس میں ہر نیکی کا ثواب ستر گنا ہوجاتا (متفق علیہ) یہی وہ بابرکت مہینہ ہے جس کے روزہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ سے بچنے کی دھال اور قلعہ بتلایا ہے (صحیح مسلم ص: ۳۶۳) ۔ یہی وہ محترم مہینہ ہے کہ روزہ دارے کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پیاری ہے قیامت کے دن روزے کا بے حد ثواب ملے گا۔ یہی وہ پاکیزہ مہینہ ہے کہ روزہ رکھنے والے کیلئے قیامت کے دن عرش کے نیچے دسترخوان چنا جائے گا، اور وہ لوگ اس پر بیٹھ کرکھانا کھائیں گے بقیہ سب لوگ ابھی حساب ہی میں پھنسے ہوں گے اس پر وہ کہیں گے کہ یہ سب کیسے کھاپی رہے ہیں اور ہم ابھی حساب ہی میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو جواب ملیگا کہ یہ لوگ روزہ رکھا کرتے تھے اور تم لوگ روزہ نہیں رکھتے تھے۔
روزہ کی نیت: نیت کرنا فرض ہے دل سے روزہ کا قصدوارادہ کرنا ہی نیت ہے ، نیت آدھے دن سے قبل کرلینا ضروری ہے۔ (عالمگیری ص: ۱۹۵، ج: ۱)
سحری کھانا: سحری کھانا سنت ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو اس میں برکت ہوتی ہے (متفق علیہ) ۔
افطار: سورج ڈوبتے ہی روزہ کھولنا اور ابر کے دن تھوڑی تاخیر کرنا سنت ہے ، چھوہارہ یا کھجور سے افطار کرنا بہتر ہ۔ جوشخص ایک گھونٹ پانی سے کسی کا روزہ کھلوادے تو اس کو روزہ دار کے مانند ثواب ملتا ہے اور روزہ رکھنے والے کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی ۔ دعائ: افطاہ اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلیٰ رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ(ابودائود)
روزے کے باے میں ضروری احکام : مسافر اور مریض کو قضا رکھنے میں دیر نہ کرناچاہئے اور اگر وقت ملا ، لیکن بغیر اداکئے مر گیا تو مناسب ہے کہ وارث ہر روزہ کے بدلے بقدر صدقۂ فطر فدیہ اداکرے ۔ اور اگر مال چھوڑ گیا ہے اور روزہ کے فدیہ کی وصیت کر گیا ہے تو اداکرنا لازم اور واجب ہے۔ ( طحطاوی علی المراقی ص: ۳۷۶،) ۔
قضا روزے کی نیت طلوع صبح صادق سے پہلے ہی کرنا ضروری ہے رمضان شریف میں اتفاقاً کسی کا روزہ ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں۔ ( طحطاوی علی المراقی)بھول کر کھانا ، پینا ، قے آنا ، قے آکر لوٹ جانا ، قصدا ً قے کرنا اگر منہ بھر سے کم ہو ، احتلام ہونا، آنکھ میں دوڈالنا، انجکشن لگوانا خواہ طاقت کا ہو اسی طرح گلوکوز سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا فتویٰ اسی پر ہے ۔
تراویح: تراویح سنت مؤکدہ ہے بیس رکعت دو،دو رکعت کرکے پڑھنا چاہئے اور پورا قرآن شریف سننا یا پڑھناسنت ہے ۔ تراویح بیس رکعت پر اجماع ہے اور احادیث سے ثابت ہے آنحضرت ﷺ نے بھی بیس رکعت پڑھی ہیں: عن ابن عباس ؓ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ سواء الوتر (مصنف ابن ابی شیبہ، طبرانی اور بیہقی میں یہ حدیث موجود ہے)۔
حضرت ڈاکٹر عبدالحئی فرمایا کرتے تھے کہ یہ تراویح بڑی عجیب چیز ہے اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو روزانہ عام دنوںکے مقابلہ میں چالیس مقامات قرب مزید عطافرماتے ہیں اس لئے تراویح بیس رکعت ہے جن میں چالیس سجدے ہیں یہی اعلیٰ مقامات قرب ہیں۔
اعتکاف: بیس رمضان المبارک کو مغرب سے پہلے عید کا چاند ہونے تک مسجد میں ثواب کی نیت سے ٹھہرے رہنا اعتکاف ہے۔ یہ اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ یعنی اگر ایک شخص بیٹھ گیا تو سنت ادا ہوجائے گی ، بغیر شدید ضرورت کے مسجد سے باہر آنا درست نہیں ضرورت یہ ہے پیشاب یاپائخانہ یا ریاح خارج کرنا ، غسل جنابت ، کھانا کھانے کیلئے اگر کوئی لانے والا نہ ہو ، اعتکاف میں خلوت وجلوت دونوں کے منافع موجود ہیں اور جس نیکی پر قادر نہیںیعنی اعتکاف کیوجہ وسے نہیں کرسکتا اس کی اس نے نیت بھی نہ کی ہو تب بھی پورا پوراثواب ملیگا ۔ (ابن ماجہ)
شب قدر : یہی وہ متبرک رات کہ اس میں عبادت کرنا ہزار مہینے کی عبادت سے افضل ہے سارے رمضان میں تلاش کرنا چاہئے بالخصوص اخیر عشرہ میں عبادت یعنی تلاوت وتسبیحات ، استغفار ودرودشریف وغیرہ اور فرائض کا خوب اہتمام ہو۔

No comments:
Post a Comment