https://www.blogger.com/blogger.g?blogID=2267044545044742969#editor/target=page;pageID=5145415130278545338;onPublishedMenu=pages;onClosedMenu=pages;postNum=0;src=pagenam e

Saturday, 13 January 2018

احوال وکوائف:مدرسہ عربیہ اصلاحُ المسلمین موضع موڑہرا پوسٹ سمری ضلع سدھارتھ نگر

آغاز سُخن:بلا شبہ دینی مدارس ومکاتب اسلا م کے مضبوط ومستحکم قلعے ہیں ، یہی مکاتب ملت اسلامیہ کی جان وروح ہیں ، حفاظت اسلام اوربقاء ایما کو جوتقویت ان مدارس ومکاتب سے ملتی ہے وہ اظہر من الشمس ہے اگر یہ مدارس نہ ہو ں تو قوم دین وایمان سے محروم ہوجائے ۔دور حاضر کے افساد وبگاڑ کے ہزاروں اسباب جس تیزی سے اپنے بد سے بدتر اثرات ماحول ، سماج، اخلاق وعقائدپر ظاہرکررہے ہیں جس کے زہریلے اثرات سے اچھے خاصے دیندارگھرانوں کے افراد بھی نہیں بچ سکتے تو ان جگہوں ک
ے مسلمانوں اور ان کے بچوں کا کیا حال ہوگاجو کفر وشرکت ، ضلالت وگمراہی ، بد عقیدگی وبدعملی کے چوطرفہ حملے سے مغلوب ومظلوم اور قابل رحم ہیں ، اب بھی ایسی بہت جگہیں آپ کے ملک کے ہر صوبہ اور ہر ضلع اور تحصیل کے درماندہ اور پسماندہ علاقوں میں ملیں گی ان کو دیکھ دیکھ کر اہل دین دردمندان کے دل کڑھتے رہتے ہیں اور ظاہری اسباب ومادی تعاون نہ ہونے کی وجہ سے ان کی دین وایمان کے تحفظ کے لئے بندوبست نہیں ہوپاتے۔ ان حالات میں تمام دردمندان ملت کا دینی وایمانی تقاضہ بنتاہے کہ اس کے لئے کوئی مضبوط قدم اٹھائیں تاکہ ان جگہوں کو اہل اسلام اور ان کے ماحول میں استقلال کے ساتھ دین وایمان کے تحفظ کاکام ہوسکے ۔
(ضمناً باتیں)موضع موڑہرا:موضع موڑہرا جغرافیائی لحاظ سے ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر (پہلے بستی) کے تحصیل بانسی کے تحت ترقیاتی بلاک کھیسرہا میں واقع ہے، اس گائوں کا کل رقبہ 106.8ہیکٹیئر یعنی 1068 مربع کلو میٹر (۲؍کلومیٹر)سے گھرا ہوا ہے،2011میں مردم شماری کے حوالہ سے شائع کئے گئے ڈیٹا کے تحت سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس گائوں کی کل آبادی 936ہے، جو 1270خاندانوں پر مشتمل ہے، جس میں مردوں کی مجموعی تعداد 471اور خواتین کی مجموعی تعداد465ہے۔ بانسی اس گائوںکاذیلی ضلع مانا جاتا ہے ۔ کھیسرہا اس گائوں کا کمیونٹی ڈیولپمنٹ بلاک (سی ڈی ڈی بلاک) ہے، یہ گائوں گرام پنچایت کے تحت آتا ہے، اس گرام پنچایت میں کل چار مواضعات (موڑہرا، پنڑری، پرتاپ پوراورکورہواں)آتے ہیں، گائوں سے ضلع ہیڈکوارٹر کی کل دوری تقریباً 45؍کلومیٹر ہے،  موضع موڑہرا میںجنسی تناسب آبادی کے لحاظ سے (مرد وخواتین) برابر ہے، فشر کے اصو ل کی طرف اگر دیکھیں تو اس گائوں کا تناسب 1:1 ہوجاتا ہے،یعنی اس گائوں میں جنسی تناسب 100ہے۔
مختصر تاریخ: ضلع سدھارتھ نگر(بستی) تحصیل بانسی کا یہ چھوٹا سا گائوں موڑہرا جو اپنے اندر نہ جانے کتنے خوابوں اور ارادوں کو سمیٹے ترقی کی بلندیوں کودیکھ رہا ہے، اس گائوں کے آباواجداد ضلع فیض آباد کے علاقہ ’’بِڑہَر‘‘ کے رہنے والے تھے غیر مسلموں کے وحشیانہ ظلم وتشدد سے پریشان ہوکر اپنے وطن عزیز کو خیر باد کہاتھا، اس گائوں کے قدیم قبرستان میں آثار قدیمہ کے کچھ نشانات اورقبریں موجود ہیں۔
مدرسہ کا قیام: حالات کے پیش نظر اوراسلامی تعلیم وتہذیب کو باقی رکھنے کے لئے ۱۹۵۷ئ؁ میں یہ مکتب(مدرسہ اصلاح المسلمین) قائم کیاگیا ،الحمدللہ آج بھی کئی گائوں کے بچے اس مکتب سے فیض یاب ہورہے ہیں۔
مدرسہ کا نظام تعلیم:درجہ پنجم پرائمری تک تعلیم کا نظم ہے،دینی تعلیمی کونسل کا نصاب جاری ہے جس میں دینیات کے ساتھ ہندی ، انگریزی کا بھی نظم ہے ، جوماہر اساتذہ کرام کی نگرانی میں علمی سفر طے کررہا ہے۔سا ل میں تین امتحانات ہوتے ہیں معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لئے قرب وجوار کے علاوہ مرکزی درسگاہ دارالعلوم الاسلامیہ بستی سے بھی ممتحن مدعو کئے جاتے ہیں ۔
عمارت: ابتدائی دور میں یہ مدرسہ چھپر کا تھا چک بندی میں مستقل زمین مل نے کے بعد پختہ تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا آج الحمدللہ مدرسہ ہذاپانچ کمروں اور ایک پختہ مطبخ اور ایک عالیشان مسجد پرمشتمل ہے مدرسہ کی آراضی کی حفاظت کے پیش نظر چہار دیواری بھی ہے۔مدرسہ ہذامیں بیرونی طلبہ کے قیام وطعام کابھی نظم رہتا ہے۔ مدرسہ ہذا میں تقریباً تین سو بچے وبچیاں زیر تعلیم ہیں۔
نوٹ: مدرسہ ہذا میں شعبۂ حفظ کے قیام کیلئے دو کمروں کی بنیاد ڈالی جاچکی ہے، الحمدللہ کمروں کی دیوار مکمل ہوگئی ہے آمدنی کا کوئی خاص ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے چھت لگنے کا کام باقی، جو گذشتہ چار سالوں سے بہی خواہان مدرسہ واہل ثروت حضرات کے انتظار میں ہے۔ 
شورائی نظام: مدرسہ کے جملہ امورممبران مدرسہ کے مشورہ سے طے ہوتے ہیں سال میں دومرتبہ حساب وغیرہ کی جانچ ہوتی ہے۔
مشاہیر علمائے کرام ومشائخ عظام جو مدرسہ ہذا میں تشریف اور اپنے تائیدی کلمات سے نوازکر دعائوں کا ذخیرہ عطا کیا۔
(۱) عارف باللہ حضرت مولانا حافظ القاری الحاج سید صدیق احمد باندوی صاحب نوراللہ مرقدہ‘(مہتمم جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ،یوپی)
(۲)مبلغ اسلام حضرت مولانا مفتی شکیــــل احمــــد سیتا پوری مدظلہ ، سابق استاذ دارالعلوم دیوبند، ودارالعلو م الاسلامیہ بستی،یوپی
(۳)حضرت مولانا الحاج محمدباقـــــر حسین قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بانی دارالعلوم الاسلامیہ بستی ، یوپی
(۴) حضرت مولانا ظہیر انوار قاسمی صاحب  مہتمم دارالعلوم الاسلامیہ بستی ، یوپی
(۵) ولی کامل حضرت مولانامفتی محمدافضل حسین صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ سابق صدر شعبہ افتائِ دارالعلوم الاسلامیہ بستی ، یوپی
(۶)حضرت مولانا محمداسعد قاسمی ناظم دارالعلوم الاسلامیہ بستی ، یوپی
(۷) مناظر اسلام حضرت مولانا مفتی محمد راشد اعظمی صاحب استاذ حدیث وفقہ دارالعلوم الاسلامیہ بستی
(۸) حضرت مولانا حفظ الرحمن میرٹھی صاحب رحمۃ اللہ علیہ
(۹)حضرت مولانا منصور احمد مظاہری صاحب ناظم مدرسہ اسلامیہ بیت العلوم بنکے گائوں،سدھارتھ نگر
(۱۰) حضرت مولانا حافظ انصار اللہ قاسمی صاحب ساکن موضع ہذا، استاذ دارالعلوم الاسلامیہ بستی وناظم تعلیمات مدرسہ ہذا
کی کرم فرمائیوں اورتعلق سے یہ اکابر حضرات وقتاً فوقتاً یہاں تشریف لاتے رہے اور مدرسہ ہذا کو اپنی دعائوں سے نوازتے رہے۔
https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjjVlMyjhU5RN21F7znZCgt_Jg0WS62Z4rqGysngKiIT-4fVtOC8yG_cQAmCK5egYp3qB3ILdvsO-p5ovDw4t6SiRthfCPwZWej5la4YW1tdw1odHbAeMF6G3UrKjTNDtAVTRy9GGXWEiI/s1600/Arif(601).jpg

نوٹ: اس مضمون میں وقت کی ضرورت وافادیت کے پیش نظر تصحیح اور جدید مضامین شامل کئے جاسکتے ہیں۔ (ایڈمن)

No comments:

Post a Comment