نوٹ بندی کے ۵۰؍دن، سیکولر ہندوستان کی تاریخ کا سب سے سیاہ دن :انورفصیح
(نمائندہ)
بستی (ایس ایچ بی):کالے دھن کے نام پر کی گئی نوٹ بندی سے ملک کے عوام کو کیا فائدہ ہوگا یہ تو مستقبل کے پیٹ میں ہے، لیکن ملک کا جو نقصان
ہوا ہے اس کی بھرپائی شاید آنیوالے ۱۰؍سالوں میں بھی ممکن نہیں ہے۔ مذکورہ باتیں فیوچر آف انڈیا کے بانی مظہر آزاد نے آج بستی ہیڈکوارٹر پر منعقد ایک احتجاجی دھرنے سے خطاب کے دوران کہا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری کی شرح گھٹ کر نصف سے بھی کم ہوگئی ہے، صنعتی کاروبار بند ہونے کے دہانے پر ہے، کسانوں کی کچی فصلوں کی قیمتیں آدھی ہوگئی ہیں، کسانوں کو فصل اُگانے کیلئے دھان کی پیداوار کوکم قیمت پر بیچنا پڑاہے، دہاڑی مزدور بے روزگار ہوگئے اور بینک کی لائن میں لگنے سے انسانی وسائل کاجو نقصان ہوا ہے اگر اس کا حساب لگایاجائے تو جو بھی غیر قانونی سونا(زیور)یا کرنسی پکڑی گئی ہے اس کی قیمت ہونیوالے نقصان کا ۱۰؍فیصدی بھی نہیںہے۔
سینئر صحافی انور فصیح نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد بھارت کے اتہاس میں کسی بھی وزیراعظم کے فیصلہ سے جن دھن کے نقصان کااس سے بڑی مثال نہیں ملے گی، صرف۴۲؍دنوں میں کمزور طبقوں کا جو اقتصادی نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی تو ممکن ہی نہیں ہے، لیکن جو لوگ بینک کی لائنوں میں لگ کر مر گئے ہیں اگر ان کو مناسب معاوضہ نہ دیا گیا تو مسقتبل کے تاریخ داں نوٹ بندی کے ان ۵۰؍دنوں کوسیکولر ہندوستان کا سب سے سیاہ دن لکھنے سے خود کو روک نہیں پائیں گے۔ فیوچر آف انڈیا کے بانی مظہر آزاد نے انہیں سب باتوں کو لیکر بستی ہیڈکوارٹر پر ایک دھرنے کا انعقاد کیا تھا جس میں صدر جمہوریہ کو منسوب میمورنڈم بھیج کر اپیل کیا ہے کہ بینک کی لائنوں میںیا دھن نہ ملنے سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرنے والوں کے سبھی اہل خانہ کو ۱۰-۱۰؍لاکھ روپئے بطور معاوضہ دینے کیلئے وزیر اعظم کو سخت ہدایات دیں۔احتجاجی دھرنے کو کے ایم شکلا، سونو شرما، این سی پی لیڈر نعمان احمد، احسان علی، شیو کمار گوتم، شیام منوہر، راج نرائن ترپاٹھی، کے کے اپادھیائے، ہری کیش ایڈوکیٹ، رام پھل، انل سنگھ، رام کمل ایڈوکیٹ وغیرہ نے خطاب کیا۔
فوٹوکیپشن:دھرنے کو خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی وکمیونسٹ لیڈر انور فصیح
No comments:
Post a Comment