یوپی اسمبلی الیکشن 2017ء
رودھولی اسمبلی حلقہ سے سماجوادی پارٹی ک امیدواربرج کشور سنگھ ’’ڈمپل‘‘ پر اعلیٰ کمان نے کیا بھروسہ
ماہرین سیاسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ انوپ پانڈے کا ٹکٹ پارٹی میں تال میل نہ ہونے کی وجہ سے کٹا ہے تاہم کن وجوہات کی بنا پر اکھلیش کابینہ کے وزیر رہے راج کشور سنگھ کے چھوٹے بھائی ڈمپل کو رودھولی سے ٹکٹ دیا گیا ہے یہ سمجھ سے باہر ہے٭ بڑی کانٹو ں بھری رہی ہے ڈمپل کی سیاسی راہ
(حذیفہ بستوی)
بستی:گذشتہ دن راجدھانی لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی میںاعلیٰ کمان کی تبدیلی کا بڑا اثر بستی میں بھی پڑا، جہاں سپا کے سابق ضلع صدر راج کپور یادو کی جگہ رویندر یادو کو ضلع کی کمان سونپی گئی تو وہیں اسمبلی حلقہ رودھولی سے امیدوار رہے انوپ پانڈے کا بھی ٹکٹ کاٹ کرقدرآور لیڈر راج کشور سنگھ کے بھائی برج کشور سنگھ ’’ڈمپل‘‘ کو امیدوار بنایا گیا ہے۔
اطلاع کے مطابق ہفتہ کے روز سماجوادی پارٹی اترپردیش کے صدر شیوپال سنگھ یادو کی جانب سے بستی سے سماجوادی پارٹی ضلع صدر اور رودھولی اسمبلی حلقہ سے اچانک امیدوار بدلنے کی خبر سے بستی کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ، سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ رودھولی سے امیدوار رہے انوپ پانڈے کا پارٹی اعلیٰ کمان سے تال میل میں کمی تھی ، دو ماہ قبل مبصرین کے سامنے ہی حامیوں میں ’توتو،میں میں‘ بھی ہوگئی تھی۔ واضح رہے کہ گذشتہ اسمبلی الیکشن ۲۰۱۲ء میں سماجوادی سے رام للت چودھری کو ٹکٹ ملنے پر انوپ پانڈے نے پینترا بدلتے ہوئے بھارتیہ سماج پارٹی سے انتخابی میدان میں آکر الیکشن لڑا، جس میں انوپ پانڈے کو تقریباً ڈھائی ہزار ووٹ ہی ملے تھے، جبکہ رام للت چودھری کانگریسی امیدوار سنجے جیسوال سے شکست کھاگئے،بعد میں سنجے جیسوال نے بھی کانگریس سے منہ موڑ کربھاجپا کی ممبر شپ حاصل کرلی۔ چنانچہ انوپ پانڈے۲۰۱۲ء کے اسمبلی الیکشن میں زبردست شکست کے بعد ضلع کے کچھ قدآور سماجوادی لیڈر وں کے سہارے لوک سبھا انتخاب کے دوران دوبارہ پارٹی میں واپسی کی اور اسمبلی الیکشن ۲۰۱۷ء کیلئے امیدوار نامز د کئے گئے۔ماہرین سیاسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ انوپ پانڈے کا ٹکٹ پارٹی میں تال میل نہ ہونے کی وجہ سے کٹا ہے تاہم کن وجوہات کی بنا پر اکھلیش کابینہ کے وزیر رہے قدآور لیڈرراج کشور سنگھ کے چھوٹے بھائی ڈمپل کو رودھولی سے ٹکٹ دیا گیا ہے یہ سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ رودھولی اسمبلی حلقہ سیاسی میدان میں پسماندگی کا شکار ہے، یہ بھی واضح رہیکہ رودھولی اسمبلی حلقہ کا پرانا نام رام نگر اسمبلی حلقہ تھا، یہاں سماجوادی پارٹی ،بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس کے امیدوار ہی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ بھاجپا کا گراف یہاں بہت نیچےتھا تاہم اس باررودھولی اسمبلی حلقہ کی سیاسی جنگ میں کس پارٹی کا سیاسی پرچم بلند ہوگا ،کہنا ابھی مشکل ہے۔
بڑی کانٹوں بھری رہی ہے ڈمپل کی سیاسی راہ : یاد رہے کہ ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا الیکشن میں بھی سماجوادی پارٹی نے بستی لوک سبھا سیٹ سے برج کشور سنگھ ڈمپل کو امیدوار بناکر میدان میں اُتارا تھا لیکن مودی لہر کے چلتے کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے، یہی نہیں بلکہ ڈمپل کو ایم ایل سی کا امیدوار بھی بنایا گیا تھا ، لیکن کچھ سیاسی مجبوری کی وجہ سے ڈمپل کا ٹکٹ کاٹ کرسنتوش یادو عرف سنّی(موجودہ ایم ایل سی) کو ٹکٹ دے دیا گیاتھا، اس کے بعد اکھلیش حکومت مہربان ہوئی اور ڈمپل کو محکمہ توانی وزیرکا درجہ دے کر ان کی سیاسی حوصلہ افزائی کی۔ اب دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ برج کشور ڈمپل رودھولی سے کونسا سیاسی فارمولہ استعمال کرکے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
فوٹو کیپشن: رودھولی اسمبلی حلقہ سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار بنائے گئے برج کشور سنگھ ’’ڈمپل‘‘
اطلاع کے مطابق ہفتہ کے روز سماجوادی پارٹی اترپردیش کے صدر شیوپال سنگھ یادو کی جانب سے بستی سے سماجوادی پارٹی ضلع صدر اور رودھولی اسمبلی حلقہ سے اچانک امیدوار بدلنے کی خبر سے بستی کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ، سیاسی جانکاروں کا کہنا ہے کہ رودھولی سے امیدوار رہے انوپ پانڈے کا پارٹی اعلیٰ کمان سے تال میل میں کمی تھی ، دو ماہ قبل مبصرین کے سامنے ہی حامیوں میں ’توتو،میں میں‘ بھی ہوگئی تھی۔ واضح رہے کہ گذشتہ اسمبلی الیکشن ۲۰۱۲ء میں سماجوادی سے رام للت چودھری کو ٹکٹ ملنے پر انوپ پانڈے نے پینترا بدلتے ہوئے بھارتیہ سماج پارٹی سے انتخابی میدان میں آکر الیکشن لڑا، جس میں انوپ پانڈے کو تقریباً ڈھائی ہزار ووٹ ہی ملے تھے، جبکہ رام للت چودھری کانگریسی امیدوار سنجے جیسوال سے شکست کھاگئے،بعد میں سنجے جیسوال نے بھی کانگریس سے منہ موڑ کربھاجپا کی ممبر شپ حاصل کرلی۔ چنانچہ انوپ پانڈے۲۰۱۲ء کے اسمبلی الیکشن میں زبردست شکست کے بعد ضلع کے کچھ قدآور سماجوادی لیڈر وں کے سہارے لوک سبھا انتخاب کے دوران دوبارہ پارٹی میں واپسی کی اور اسمبلی الیکشن ۲۰۱۷ء کیلئے امیدوار نامز د کئے گئے۔ماہرین سیاسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ انوپ پانڈے کا ٹکٹ پارٹی میں تال میل نہ ہونے کی وجہ سے کٹا ہے تاہم کن وجوہات کی بنا پر اکھلیش کابینہ کے وزیر رہے قدآور لیڈرراج کشور سنگھ کے چھوٹے بھائی ڈمپل کو رودھولی سے ٹکٹ دیا گیا ہے یہ سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ رودھولی اسمبلی حلقہ سیاسی میدان میں پسماندگی کا شکار ہے، یہ بھی واضح رہیکہ رودھولی اسمبلی حلقہ کا پرانا نام رام نگر اسمبلی حلقہ تھا، یہاں سماجوادی پارٹی ،بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس کے امیدوار ہی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ بھاجپا کا گراف یہاں بہت نیچےتھا تاہم اس باررودھولی اسمبلی حلقہ کی سیاسی جنگ میں کس پارٹی کا سیاسی پرچم بلند ہوگا ،کہنا ابھی مشکل ہے۔
بڑی کانٹوں بھری رہی ہے ڈمپل کی سیاسی راہ : یاد رہے کہ ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا الیکشن میں بھی سماجوادی پارٹی نے بستی لوک سبھا سیٹ سے برج کشور سنگھ ڈمپل کو امیدوار بناکر میدان میں اُتارا تھا لیکن مودی لہر کے چلتے کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے، یہی نہیں بلکہ ڈمپل کو ایم ایل سی کا امیدوار بھی بنایا گیا تھا ، لیکن کچھ سیاسی مجبوری کی وجہ سے ڈمپل کا ٹکٹ کاٹ کرسنتوش یادو عرف سنّی(موجودہ ایم ایل سی) کو ٹکٹ دے دیا گیاتھا، اس کے بعد اکھلیش حکومت مہربان ہوئی اور ڈمپل کو محکمہ توانی وزیرکا درجہ دے کر ان کی سیاسی حوصلہ افزائی کی۔ اب دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ برج کشور ڈمپل رودھولی سے کونسا سیاسی فارمولہ استعمال کرکے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
فوٹو کیپشن: رودھولی اسمبلی حلقہ سے سماجوادی پارٹی کے امیدوار بنائے گئے برج کشور سنگھ ’’ڈمپل‘‘
No comments:
Post a Comment