ہزار کی کرنسی پر مودی کی تقریر بنی موضوع بحث
(حذیفہ بستوی)
بستی(نامہ نگار):مرکزی حکومت کے ذریعہ پانچ سو کے پرانے نوٹ اور ہزار کے نوٹ بند کئے جانے کے بعد ریزروبینک آف انڈیا کی نئی گائڈلائن ،اے ٹی ایم وبینکوں میں جمع ہورہی بھیڑ ، بے وقت ہونے والی اموات، شادی بیاہ میں ہورہی پریشانیوں کی بحث جگہ جگہ ہورہی ہے، جہاں دیکھو وہیں نوٹ بندی کا اثر دکھائی دے رہا ہے، چھوٹے بزنس سے لیکربڑی بڑی کمپنیوں میں کام کررہے مزدورتک اچانک میں نوٹ بند کئے جانے سے متاثر ہیں،کچھ لوگ حکومت کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ لوگ مودی کی مخالفت کررہے ہیں۔اسی درمیان ۲؍ہزار کی کرنسی پر وزیر اعظم کی تقریر بھی خوب موضوع بحث بنی ہوئی ہے، دانشوران کہہ رہے ہیں کہ نوٹ کے ذریعہ وزیر اعظم اپنا پرچار کررہے ہیں، وہ مہاتما گاندھی بننے کی کوشش میں ہیں، لیکن ان کی یہ حرکت ملک کوعالمی سطح پراقتصادی و معاشی اعتبار سے کمزور کردینے والی ہے۔
بحث ہے کہ ۲؍ہزار کی کرنسی پر وزیر اعظم کی تقریر سیٹ کی گئی ہے یا پھرکرنسی کو انڈرائیڈ موبائل سے اسکین کرنے پر وزیر اعظم کی تقریر شروع ہوجاتی ہے، لوگ ایک موبائل ایپ کے ذریعہ ان نوٹوں میں پی ایم مودی کی تقریر سن رہے ہیں ، نمائندہ انقلاب نے جب اس معاملہ کی پڑتال خود سے کی تو یہ سچ ثابت ہوا، لیکن اس کے پیچھے کی وجہ بھی ہم لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ’’Modikeynote‘‘نام کے ایپ کو ڈائون لوڈ کرکے ۲؍ہزار کی کرنسی کے پاس رکھنے پر یہ ایپ اسے اسکین کرنے کو کہتا ہے ، اس کے بعد نوٹ کے اوپر ویڈیو خودپلے ہوجاتی ہے، اس کے لئے اسمارٹ فون یا انڈرائیڈ فون کونئے نوٹ کے ٹھیک اوپر یا سامنے ہونا ضروری ہے، نوٹ سے کیمرہ ہٹاتے ہی ویڈیوبند ہوجاتی ہے۔ بتادیں کہ پرانے نوٹوںپر یہ ویڈیو نہیں چلتی ہے، اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ایپ کو ۲؍ہزار کے نئے نوٹ کے رنگ کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے جب یہ اسکین کرتے ہیں تو ایپ میں موجود وزیر اعظم مودی کاانگریزی زبان میں تقریرکاویڈیو خود چلنے لگتا ہے، اس لئے یہ ویڈیو نوٹ میں نہیں بلکہ ایپ میں پہلے سے ہی کوڈ کے ذریعہ سیٹ کیا ہوا ہے جو نوٹ کی شناخت کرنے کے بعد خود بخود پلے ہوجاتا ہے، مثلاً مان لیاجائے کہ یہ اصلی اور جعلی نوٹ کے شناخت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
(حذیفہ بستوی)
بستی(نامہ نگار):مرکزی حکومت کے ذریعہ پانچ سو کے پرانے نوٹ اور ہزار کے نوٹ بند کئے جانے کے بعد ریزروبینک آف انڈیا کی نئی گائڈلائن ،اے ٹی ایم وبینکوں میں جمع ہورہی بھیڑ ، بے وقت ہونے والی اموات، شادی بیاہ میں ہورہی پریشانیوں کی بحث جگہ جگہ ہورہی ہے، جہاں دیکھو وہیں نوٹ بندی کا اثر دکھائی دے رہا ہے، چھوٹے بزنس سے لیکربڑی بڑی کمپنیوں میں کام کررہے مزدورتک اچانک میں نوٹ بند کئے جانے سے متاثر ہیں،کچھ لوگ حکومت کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ لوگ مودی کی مخالفت کررہے ہیں۔اسی درمیان ۲؍ہزار کی کرنسی پر وزیر اعظم کی تقریر بھی خوب موضوع بحث بنی ہوئی ہے، دانشوران کہہ رہے ہیں کہ نوٹ کے ذریعہ وزیر اعظم اپنا پرچار کررہے ہیں، وہ مہاتما گاندھی بننے کی کوشش میں ہیں، لیکن ان کی یہ حرکت ملک کوعالمی سطح پراقتصادی و معاشی اعتبار سے کمزور کردینے والی ہے۔
بحث ہے کہ ۲؍ہزار کی کرنسی پر وزیر اعظم کی تقریر سیٹ کی گئی ہے یا پھرکرنسی کو انڈرائیڈ موبائل سے اسکین کرنے پر وزیر اعظم کی تقریر شروع ہوجاتی ہے، لوگ ایک موبائل ایپ کے ذریعہ ان نوٹوں میں پی ایم مودی کی تقریر سن رہے ہیں ، نمائندہ انقلاب نے جب اس معاملہ کی پڑتال خود سے کی تو یہ سچ ثابت ہوا، لیکن اس کے پیچھے کی وجہ بھی ہم لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ’’Modikeynote‘‘نام کے ایپ کو ڈائون لوڈ کرکے ۲؍ہزار کی کرنسی کے پاس رکھنے پر یہ ایپ اسے اسکین کرنے کو کہتا ہے ، اس کے بعد نوٹ کے اوپر ویڈیو خودپلے ہوجاتی ہے، اس کے لئے اسمارٹ فون یا انڈرائیڈ فون کونئے نوٹ کے ٹھیک اوپر یا سامنے ہونا ضروری ہے، نوٹ سے کیمرہ ہٹاتے ہی ویڈیوبند ہوجاتی ہے۔ بتادیں کہ پرانے نوٹوںپر یہ ویڈیو نہیں چلتی ہے، اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ایپ کو ۲؍ہزار کے نئے نوٹ کے رنگ کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے جب یہ اسکین کرتے ہیں تو ایپ میں موجود وزیر اعظم مودی کاانگریزی زبان میں تقریرکاویڈیو خود چلنے لگتا ہے، اس لئے یہ ویڈیو نوٹ میں نہیں بلکہ ایپ میں پہلے سے ہی کوڈ کے ذریعہ سیٹ کیا ہوا ہے جو نوٹ کی شناخت کرنے کے بعد خود بخود پلے ہوجاتا ہے، مثلاً مان لیاجائے کہ یہ اصلی اور جعلی نوٹ کے شناخت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
No comments:
Post a Comment