دارالعلوم الاسلامیہ بستی کے استاذ مولانا قاری عبدالمعبود قاسمی کاانتقال
بستی(محمدابوحذیفہ): دارالعلوم الاسلامیہ بستی شعبہ حفظ کے استاذ مولانا قاری عبدالمعبود قاسمی(عمر45سال) کا گذشتہ شب تقریباً ۸؍ مختصر علالت کے بعدبستی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
مولانا مرحوم کو شوگر اور پیلیا کامرض لاحق تھا ،تقریباً آٹھ ماہ سے زیر علاج تھے، کہ اچانک اتوار کی صبح طبیعت زیادہ خراب ہوگئی جس سے ان کے اہل خانہ نے انہیں بستی کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں ایڈمٹ کرایا ، لیکن افاقہ نہ ہوا اور قبل عشاء تقریباً ۸؍بجے مالک حقیقی سے جا ملے۔ تدفین کاآج (بروز دوشنبہ) صبح ۹؍بجے ان کے آبائی وطن موضع کردہ میں ہوئی، نماز جنازہ مدرسہ ریاض العلوم گورینی کے استا ذ مفتی عبدالرحمن کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ جنازہ میں مفتی محمد احمد قاسمی، حافظ انصاراللہ قاسمی، مولانا محمد امجد قاسمی، حافظ فضل الرحمن قاسمی، حافظ خورشید احمد، حافظ امتیاز احمد، مولانا تصور حسین قاسمی، قاری عبدالحکیم نے شرکت کی.
مذکورہ اطلاع دیتے ہوئے دارالعلوم الاسلامیہ کے مہتمم مولانا ظہیر انوار قاسمی نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیااور کہا کہ دارالعلوم ایک مایہ ناز وتجربہ کار اور لائق استاذ سے محروم ہوگیا، مولانا انتہائی بردبار ،ملنساروخوش اخلاق اور گوناگوں صفات کے حامل تھے. اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی بال بال مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم مولانا قاری عبدالمعبود قاسمی نے مدرسہ فرقانیہ گونڈہ کے مہتمم حافظ محمداقبال کے پاس قرآن کریم حفظ کیا اور قاری عبدالمتین سے قرأت بروایت حفص کی تکمیل کی۔ عربی وفارسی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ انوارالعلوم بھولے پور امبیڈکر نگر میں حاصل کرنے کے بعد ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سے ۱۹۹۷ء میں سند فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد شہر حیدرآباد کے مختلف مساجد واداروں میں درس وتدریس اور امامت کے فرائض انجام دیئے، جس میں دارلعلوم الرحمانیہ میں ایک عرصہ تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ والد ین کی خدمت کیلئے وطن واپس آنا پڑا، لیکن تدریس سے دلچسپی کی وجہ سے فروری۲۰۱۷ء میں دارالعلوم الاسلامیہ کے شعبہ حفظ میں مدرس مقرر ہوئے۔
مولانا مرحوم ایک اچھے مدرس ،خوش الحان قاری ہونے کیساتھ ساتھ بہترین نعت خواں اور اچھے مقرر بھی تھے۔ مولانا مرحوم کے پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

No comments:
Post a Comment