https://www.blogger.com/blogger.g?blogID=2267044545044742969#editor/target=page;pageID=5145415130278545338;onPublishedMenu=pages;onClosedMenu=pages;postNum=0;src=pagenam e

Wednesday, 20 May 2020

دنیائے علم وتحقیق کا نیّر تاباں غروب ہوگیا: مولانا محمد اسعد قاسمی

بستی(۲۰مئی ۲۰۲۰ء): عالم اسلام کے عظیم فقیہ، محدث ومفسر حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری شیخ الحدیث وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند نے گذشتہ روز بمبئی کے ایک اسپتال میں داعئ اجل کو لبیک کہا اور خالق حقیقی سے جاملے. اناللہ واناالیہ راجعون

حضرت مرحوم کے انتقال پر مشرقی یوپی کی معروف دینی درسگاہ *دارالعلوم الاسلامیہ بستی کے ناظم مولانا محمد اسعد قاسمی* نے تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مفتی صاحب دور حاضر کے نامور محدث، مایہ ناز مفسر، مثالی فقیہ اور بے باک خطیب تھے، وہ مسلک علمائے دیوبند کے ایک عظیم ترجمان بلکہ آبرو تھے. ان کی ذات بابرکات سے طبقہ علماء میں سکون وقرار تھا. اُن کی گفتگو عالمانہ، اُن کی تحریریں محققانہ ہوتی تھیں. انہوں نے تقریباً نصف صدی تک علم فقہ، تفسیر وحدیث کی بڑی آن بان شان کے ساتھ خدمت انجام دے کر نئی نسل کی تعمیروتشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے. اسی وجہ سے طلبہ دارالعلوم اور اساتذہ میں جو مقبولیت ومحبوبیت اور ہردلعزیزی حضرت مفتی صاحب کو حاصل ہوئی وہ کم لوگوں کے نصیب میں آتی ہے. حضرت مفتی صاحب جس بات کو سچ اور حق سمجھتے تھے اس کے لکھنے اور بیان کرنے میں کسی لومۃ لائم کی پرواہ قطعاً نہیں کرتے تھے، وہ اپنے خداداد ذہانت، ٹھوس استعدادِ علمی اور کمالات فقہی کے باعث دیوبندیت کی ڈھال تھے. انہوں نے کہا کہ اس الم ناک حادثہ پر تمام علماء وطلبہ بالخصوص دارالعلوم دیوبند کے وابستگان مستحق تعزیت ہیں. رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ان کا اس دنیا سے رخصت ہونا اللہ کی رضا، قرب اور اس کی خصوصی عنایات سے لطف اندوز ہونے کا باعث ہوگا، اور ملک وبیرون ملک میں پھیلے ہوئے ان کے ہزاروں تلامذہ اور مستفیدین ان کے لئے صدقہ جاریہ ثابت ہونگے. انشاءاللہ العزیز
حضرت مفتی صاحب اس دورِقحط الرجال میں امت کیلئے ایک عظیم تحفہ اور انعام تھے، اور اسم بامسمّٰی تھے، بحر علم وتحقیق کے دُرِّ نایاب تھے. آج پوری علمی دنیا ان کے سانحہ ارتحال پر ماتم کناں ہے. بلا شبہ وہ موت العالِم موت العالم کے سچے مصداق تھے. حقیقت یہ ہے کہ آج علم وتحقیق کا کارواں میرِ کارواں سے محروم ہوگیا ہے. اور لاکھوں رہ رو اپنے رہبر کے رخصت ہوجانے پر اجتماعی یتیمی کا درد محسوس کررہے ہیں.
 زندگانی تھی تری مہتــــاب سے تابنـــــــدہ تر
خوب تر تھا صبح کے تاروں سے بھی تیراسفر

No comments:

Post a Comment