https://www.blogger.com/blogger.g?blogID=2267044545044742969#editor/target=page;pageID=5145415130278545338;onPublishedMenu=pages;onClosedMenu=pages;postNum=0;src=pagenam e

Wednesday, 21 August 2019

مرحوم حکیم احمد حسن بستوی ’’صبوحیؔ‘‘

مرحوم حکیم احمد حسن بستوی ’’صبوحیؔ‘‘
مرحوم حکیم احمد حسن بستوی ’’صبوحیؔ‘‘
شعری مجموعہ ’’جُرعات‘‘ کے مصنف مرحوم حکیم احمد حسن نے سو سال قبل ۱۹۱۹ء میں ضلع بستی کے ایک نہایت پسماندہ، دور افتادہ اور مادی ، علمی وادبی بلکہ ہر اعتبار سے پچھڑے ہوئے ایک چھوٹے سے گائوں موضع سمرا میں آنکھیں کھولیں۔آمدورفت اور نقل وحمل کا کوئی باضابطہ نظام نہیں تھا، اور آج بھی اخبارات ورسائل وقت پر نہیں پہونچ پاتے ہیں۔جس کی وجہ سے مرحوم حکیم احمد حسن’ صبوحی‘ کو توبین ضلعی و قومی سطح پر شہر ت نہ مل سکی اور بڑی حد تک گمنامی میں رہے، لیکن انہوں نے نہایت نامساعد اور سخت حالات کے باوجود صرف اپنی بے پناہ وقوتِ تخلیق سے شاعری کی ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی اور اپنی جودتِ طبع کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے نظمیں بھی کہیں اور غزلیں بھی کہیں ، یوں تو بنیادی طور پر صبوحی صاحب غزل کے شاعر تھے، اس کیساتھ ساتھ انہوں نے حمدونعت اور مختلف موضوعات پر نظمیں بھی لکھی ہیں۔  مرحوم صبوحی بستوی ایک صاحب فضل وباکمال عالم دین اور قادرالکلام سخن ور ہونے کیساتھ ملت اسلامیہ کے مخلص درد مند خادم بھی تھے۔ مرحوم صبوحی اورمجروح سلطانپوری ایک دوسرے کے دوست ہوا کرتے تھے، دونوں میں بڑی قربت تھی ، لیکن دونوں کی راہیں الگ تھیں،کیونکہ صبوحی صاحب کو اپنے دینی گھرانے میں وہ بے لگام آزاد ی حاصل نہیں تھیںجو مجروح صاحب کو حاصل تھیں۔ ’جرعات‘ مولاناحکیم احمد حسن صبوحی کا ایک بہترین شاہکار شعری مجموعہ ہے ، جس میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی۔ لیکن غزل کا حصہ غالب ہے، رہنگ وآہنگ ، متانت اور سنجیدگی حکیم مومن خاں مومن ، حسرت موہانی اور جگر مرادآبادی سے ملا ہے، اور الفاظ ومحاورات کا استعمال داغ خاندان کا حصہ ہے، کیونکہ صبوحی صاحب کے استاد ابراحسنی گنوری ہیں جو داغ خاندان کے معروف وممتاز استادانہ صلاحیت کے مالک اور عروض وقوافی کے معتبر فن کار تھے۔

No comments:

Post a Comment