https://www.blogger.com/blogger.g?blogID=2267044545044742969#editor/target=page;pageID=5145415130278545338;onPublishedMenu=pages;onClosedMenu=pages;postNum=0;src=pagenam e

Monday, 1 January 2018

طلاق ثلاثہ بل غیر دانشمندانہ رویہ کا عکاس اور شریعت مخالف ہے

حفیظ الرحمن قاسمی             قیام الدین القاسمی          ظہیرانوار قاسمی
مولانا قیام القاسمی نے کہا :مذکورہ بل کے تدارک وتعاقب اور تردید کیلئے ملی جماعتیں خاص کر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈاورجمعیۃ علماء ہند اپنی قائدانہ ومدبرانہ رول ادا کریں اور اس بوکس بل کے خلاف نہایت خاموشی کیساتھ عدالت عظمیٰ میں چیلنج کریں۔
ّّّ   (پــریس ریـلیــــــز)    
بستی :ایوان پارلیمنٹ میں حکومت وقت نے جو طلاق ثلاثہ بل مسلمان عورتوں کیلئے تحفظ حقوق کے نام پر پیش کیا ہے در اصل غیر متوازن قانون میں مسلم عورتوں کی زبردست حق تلفی اور ناانصافی ہی نہیں بلکہ جمہوری آئین کی توہین اور شرعی ومعاشرتی ضابطہ میں مداخلت ہے، جو سراسر شرارت پر مبنی اور ملک وملت کی سالمیت کیلئے ناسور ہے۔ 
مذکورہ خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء ضلع بستی کے جنرل سکریٹری مولانا قیام الدین القاسمی نے جاری مشترکہ صحافی بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ بل کے تدارک تعاقب اور تردید کیلئے ملت کے تمام فرزندوں اور جماعتوں خاص کر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ وجمعیۃ علماء ہند اپنی قائدانہ ومدبرانہ رول ادا کریں اور اس بوکس بل کے خلاف نہایت خاموشی کیساتھ عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جائے اور اس کیلئے پریس کانفرنس اور ہجومی احتجاج وغیرہ سے بالکلیہ پرہیز کیاجائے، ورنہ فرقہ پرست طاقتیں اپنی ساز ش میں کامیاب ہوجائیں گی ۔ انہوں نے مسلمانان ہند کے او پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دستوری کی حفاظت کیلئے ہمیں اپنی صفوں میں مسلکی اختلاف و نظریات سے اوپر اُٹھ کر سیاسی اور سماجی سطح پر اتحاد پیدا کرنا ہوگا، اور سیاسی تقویت کیلئے ووٹ کی اہمیت اور اس کیلئے بیداری مہم کی سخت ضرورت ہے، جبکہ بحیثیت مسلمان ہمیں اپنا ایمان بچانے اور دین کی حفاظت کیلئے زندگی کے ہر لمحات پابند شریعت ہونا ہے اس لئے کہ پابند شریعت میں پابند حکومت کی ضرورت نہیں بلکہ دین اور دستور کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ 
مولانا ظہیر انوار قاسمی نے کہا کہ ملک کی موجودہ حالات کے پیش اپنے بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کیلئے سنجیدگی کی ضرورت ہے ، خاص کر خواتین میں شرعی مسائل اور دین کی ضروری معلومات کو عام کرنے کیلئے اصلاحِ معاشرہ کی تحریک چلائیں ۔ کہا کہ اس وقت زوجین کے مابین جو تنازعات پیش آتے ہیں اس میں اکثر لوگ شریعت کے عائلی اور معاشرتی مسائل سے نابلد ہی نہیں بلکہ بددین اور بداخلاق ہوتے ہیں جس کیلئے ذمہ دار ہم اور آپ ہیں۔ آج ہمیں محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ایسے حالات کے تناظر میں سیاسی اور ملی متحدہ پلیٹ فارم کو مضبوط کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یقینا حکومت ہند کا طلاق ثلاثہ بل شریعت میں مداخلت کے ذریعہ یونیفارم سول کوڈ کا راستہ صاف کرنے کا ذریعہ ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔خازن جمعیۃ علماء ضلع بستی مولانا حفیظ الرحمن قاسمی نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کا مسودہ غیر دانشمندانہ رویہ کا عکاس ہے۔ جس کی جزئیات اور توضیحات سے واضح ہے کہ یہ اندھا قانون نہایت ہی غیر فطری اور شریعت مخالف ہے، ایسی صورتوں میں خلاف شرع کاموں کو روکنے کیلئے ملت کے پیروکاروں کی معاشرتی ملی ہی نہیں بلکہ اسلامی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ چند مسلم ممبران پارلیمنٹ پر جنہوں نے اپنی غیر حاضری اور پارٹی ہائی کمان کی حاکمیت کی معذرت خواہی کرکے اپنا پلہ جھاڑلیا ، یاد رکھئے یہ غفلت اور مصلحت وقت کا مؤرخ قطعاً معاف نہیں کرسکتا اور نہ ہی شریعت مطہرہ اس کی اجازت دے گی، انہوں نے مزید کہا کہ ایک غیرت مند مسلمان کو ملت عزیز ہونی چاہئے نہ کہ پارٹی ۔ اخیر میں مولانا قیام الدین القاسمی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے کبھی غفلت نہیں برتی ، البتہ جزوی طور پر ایک بڑی چوک ہوئی ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ بورڈ فرقہ پرست ذہنیت کے تعاقب میں نہیں ہے بلکہ مسلسل عدالت اور حکومت کی قانونی مسودوں پر نگاہیں جمی ہوئی تھیں ، جس کا متبادل بورڈ نے پیش بھی کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے مخصوص ذہنیت حاوی رہی اور عدالت عظمیٰ سے طلاق ثلاثہ کو کالعد م قرار ددیئے جانے کے بعد بھی حکومت قانون سازی میں لگی ہوئی ہے۔ 

No comments:

Post a Comment