https://www.blogger.com/blogger.g?blogID=2267044545044742969#editor/target=page;pageID=5145415130278545338;onPublishedMenu=pages;onClosedMenu=pages;postNum=0;src=pagenam e

Monday, 22 December 2014

پوكھرني گاؤں پولیس چھاؤنی میں تبدیل 
دو دلت خاندانوں کے مذہب اسلام اپنانے کا معاملہ گرم،خاندان کے سربراہ بولے، دماغ سے اسلام قبول کیا تھا، رہن سہن ہندو جیسا،ڈی آئی جی نے کہا کہ، معاملہ کی ہو رہی ہے تحقیقات
(حذیفہ بستوی)
بستی(نامہ نگار):بستی ضلع کے نگر بازار علاقےمیں پوكھرني گاؤں میں دو دلت خاندانوں کے تبدیلیٔ مذہب کی خبر آتے ہی گاؤں پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گئی،پولیس اور انتظامی افسران نے تفتیش شروع کر دی ہےوہیں پولیس کی پوچھ گچھ میں خاندان کے سربراہ نے کہا کہ اس نے دل سے اسلام قبول کیا تھا، رہن سہن ہندو جیسا ہی ہے۔
جمعہ کے دن دیر شام کو اچانک پولس اور انتظامیہ کے افسران سرگرم ہو گئے، اطلاع ملی کہ پوكھرني گاؤں میں دو دلت خاندانوں نے اسلام مذہب اپنا لیا ہے، اس سے حکام کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، پوكھرني گاؤں میں پولیس اور انتظامی افسران پہنچ گئے، گاؤں کے ببو ولدرام چیت اور سنتوش ولد رام لکھن کے خاندان والوں سے پوچھ گچھ شروع کی گئی، پولیس کے سامنے دونوں کے خاندان کے لوگوں نے تو بتایا کہ انہوں نے اسلام مذہب نہیں اپنایا ہے، اگرچہ ببو اور سنتوش نے کہا کہ انہوں نے دل سے اسلام قبول کیا ہے مگر خاندان پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ایس پی وی پی شریواستو کا کہنا ہے کہ دونوں خاندانوں کی چھان بین کی گئی، گھر میں تبدیلی مذہب کا کوئی ثبوت نہیں ملا، انہوں نے بتایا کہ پوچھ گچھ میں دونوں نے دل سے اسلام ماننے کی بات کہی، جبراً تبدیلی مذہب کی بات غلط ہے، وہیں ڈی آئی جی لكشمي نارائن نے کے مطابق کہ معاملے کی جانچ چل رہی ہےجانچ کے بعد ہی مکمل سچ سامنے آ سکے گا۔
سبھاوتي بولی، ہم دلت ہیں:
جن دو خاندانوں کے مذہب بدلنے کی بات کہی جا رہی تھی، ان میں سے ایک سنتوش کی بیوی سبھاوتي سے موبائل پر جب پوچھا گیا کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان تو بولی کہ وہ دلت ہے اور اسے ہندو ہی رہنا ہے، مسلمان بننے کے لئے فتنہ کے سوال پر کہا کہ همیں کچھ ناہیں معلوم۔
افواہ پھیلانے والاے سے سختی ہوگی: ایس پی
ایس پی وی پی شریواستو نے کہا کہ کچھ لوگوں کی طرف سے ضلع میں امن چین بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تبدیلی مذہب کی افواہ اڑا کر جمعہ کو ضلع کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ تبدیلیٔ مذہب جیساکوئی واقعہ نہیں ہوا، افواہ پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
کسی نے نہیں بدلا اپنا مذہب: اجو
ہندویوواواہنی ضلع صدر اجو استھانی نے کہا کہ پوكھرني گاؤں میں مذہب کے تبدیل کئے جانے جیسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے، ان عہدیدار موقع پر گئے تھے، جن خاندانوں کے تبدیلی مذہب کی بات کہی جا رہی ہے، انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ہندو ہیں، ہاں! کچھ لوگوں نے تبدیلی مذہب کے لئے اکسایا ضرور تھا،اکسانے والوں کی نشاندہی کرکے پولیس ان کے خلاف کارروائی کرے۔
دو دلت خاندانوں کے مذہب اسلام اپنانے کا معاملہ گرم
خاندان کے سربراہ بولے، دماغ سے اسلام قبول کیا تھا، رہن سہن ہندو جیسا
ڈی آئی جی نے کہا کہ، معاملہ کی ہو رہی ہے تحقیقات

No comments:

Post a Comment