https://www.blogger.com/blogger.g?blogID=2267044545044742969#editor/target=page;pageID=5145415130278545338;onPublishedMenu=pages;onClosedMenu=pages;postNum=0;src=pagenam e

Thursday, 28 December 2017

فن تصوف وتزکیہ میں ایک گرانقدر علمی اضافہ: ’’ مکتوبات مولانا فاروق احمد مظاہری ؒ ‘‘ کا رسم اجرا

مکتوبات مولانا فاروق احمد مظاہری ؒ 
(بیورونیوز/نظام الدینن القاسمی)
بستی : خداوند کائنات کی مشیت ہی سے کائنات کی ساری چیزیں پُر رونق ہیں جب چاہے اوصاف ظاہری کو سلب کرلے اور جب چاہے وجود بخشے ،نور ایمان نور الٰہی سے مستفاد ہے ،ایمان جب اعمال صالحہ سے جلا پاتا ہے تو وہ بڑھتا ہے اور اپنے گرد ونواح کو بھی منور کرتا ہے ،بعثت نبوت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تزکیہ ٔ نفس بھی ہے جن خاصان خدا نے اپنے آپ کو رذائل سے پاک کرلیا اور خصائل حمیدہ سے آراستہ کرلیا وہی لوگ کامیاب ہیں ،آجکل لوگ طرح طرح کی باطنی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور انکو یہ خبر بھی نہیں کہ یہ ہمارے لئے مہلک ہے اور ایمان کو ختم یا کمزور کردینے والا ہے اہل اللہ نے انہی باطنی بیماریوں کوپہچانا اور اور روحانی طبیبوں سے انکا علاج کرایا ۔مذکورہ باتیں صدر المدرسین دارالعلوم الاسلامیہ بستی مولانا نثار احمد قاسمی نے مدرسہ عربیہ اصلاح المسلمین جمداشاہی میں منعقدہ تقریب’’مکتوبات مولانا فاروق احمد مظاہریؒ‘‘ کی رسم اجراکے موقع پر صدارتی خطاب کے دوران کہیں۔ جس میں بستی،سنت کبیرنگر، سدھارتھ نگر وگورکھپور کے مشہور ومؤقر علماء ومشائخ نے شرکت کی۔
مولانا محمد عبد القیوم شاکر الاسعدی مہتمم مدرسہ اصلاحُ المسلمین جمداشاہی نے مولانا فاروق احمد مظاہری ؒ کے بارے میں مختصراً تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم مولانا فاروق احمد مظاہری ؒ نہ یہ کہ صرف وہ میرے چچا تھے بلکہ وہ ایک ولی صفت انسان تھے جنہوں نے بہت ہی کم عمر پائی، جس وقت مولانا مرحوم کاانتقال ہوا تو میری عمر تقریبا پانچ سال تھی جسے کم سنی کا زمانہ کہا جاتا ہے لیکن اُنکاچرچا اور نیکیوں کاتذکرہ خاندان والوں اور استاذ مولانا ہدایت علی ؒ سے بار بار سنتا رہتا۔ انہوں نے مولانا مرحوم کے تقوی طہارت اور شریعت وسنت کی پابندی کے مختلف واقعات کا ذکر فرمایا کہ آپ معمولی معمولی باتوں پر قوت سے عمل پیرا تھے ،تقوی طہارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح کے دو ہی طریقے ہیں ایک کتاب اللہ اور دوسرے رجال اللہ، اسی کڑھن اور جذبہ سے چچا محترم نے ۱۳۵۴؁ ھ میں مظاہر علوم سے سند فراغت اور علوم ظاہر کی تکمیل کے بعد علوم باطن کی تکمیل کے لئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒسے اپنا اصلاحی تعلق قائم فرمایا اور خط وکتابت جاری رکھا  مگر جب بعد میں حکیم الامتؒ کو بینائی کا عذر ہوگیا تو چچا محترم نے مولانا عبد الرحمن کاملپوری ؒ  سے اصلاحی تعلق قائم فرمایا اور یہ سلسلہ ۱۹ ؍ خطوط تک محفوظ تھا بقیہ اور اق دریدہ ہوکر ضائع ہوگئے ۔  یہ علمی خزانہ جو روحانی بیماریوں کے مختلف نسخوں پر مشتمل ہے کہیں ضائع نہ ہوجائے ہمارے رفیق مولانا محمد ساجد قاسمی نے بڑی دیدہ ریزی اور عرق ریزی سے ان خطوط کو پڑھا اورایک بصیرت افروز مقدمہ ومقالہ لکھ کر کتاب کو گنجینہ ٔ معرفت بنا کر چار چاند لگادیا اللہ مولانا کی اس علمی کاوش کو قبولیت سے نواز کر دارین میں فلاح سے نوازے۔
اس کے بعد مولانا معشوق احمد مظاہر ی نے اپنے بیان میں فرمایا کہ یہ کتاب تصوف کے فن میں ہے اور تصوف کا مطلب شریعت وسنت کی روشنی میں رسول اللہ ؐ کی زندگی کی طرح اپنی زندگی بنانا ،کیونکہ نبی ؐ معلم اخلاق تھے اور آپ کی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے ۔ لہذااپنے نبی کی حیات طیبہ اور اللہ والوں کی زندگی سے سبق اور عبرت حاصل کرکے انکے نقش قدم پر چلنے کی سعی اور کوشش کریں ۔مولانا ظہیر انوار قاسمی مہتمم دار العلوم الاسلامیہ نے اپنے تأثراتی کلمات میں کہا کہ مولانا مرحوم میرے دادا ہوتے تھے ،آپکا تذکرہ دیر تک سنا گیا اور جو کچھ اس مجلس میں بیان کیا گیا لا ریب وہ ان خوبیوں کے مالک تھے ،اللہ نے آپکو وہ عظمت وجلال عطا کیا تھا کہ اُس زمانہ میں بڑے زمیندار لوگ دھوتی پہنتے تھے مگر آپکے خوف سے کوئی شخص دھوتی نہ پہنتا اور جب کبھی مہمانی وغیرہ میں جاتا تو گاؤں کے باہر جاکر پہنتا اور باہر ہی اتار کر گاؤں میں داخل ہوتا ، آپکا خاندان آپ کی وجہ سے نیکیوں میں مشہور تھا ۔
تقریب الحاج معاشر اللہ انصاری( اے آر ٹی او گورکھپور) کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی، شرکاء تقریب میں مولانا امانت علی، ڈاکٹر عزیز الدین قاسمی، بھائی مطیع اللہ گورکھپور ، مولانا شمس الضـحی ،مولانا علاؤ الدین ،مولانا مطیع اللہ ، مولانا منصور احمد مظاہری ناظم مدرسہ بیت العلوم بنکے گاؤں، مولانا حفیظ الرحمن قاسمی خازن جمعیۃ علماء بستی،مولانا وصی اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء بستی ، مولانا انصار اللہ قاسمی دارالعلوم الاسلامیہ، مفتی سعید احمد ، مولانا محمد خطیب وغیرہم اور دیگر علماء واساتذہ مدرسہ ہذاکے اسماء قابل ذکر ہیں۔تقریب میں شرکاء کو کتاب’’ مکتوبات مولانا فاروق احمد مظاہری ‘ؒ‘ بطور ہدیہ پیش کی گئی، جسے سبھی شرکاء نے بصد خوشی قبول کیا ۔ 

Wednesday, 15 March 2017

طلبۂ دارالعلوم الاسلامیہ کا پروگرام 16؍مارچ کو ، تیاریاں مکمل


اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی آمد
(بیورورپورٹ)
    بستی : مشرقی یوپی کی مشہور دینی درسگاہ دارالعلوم الاسلامیہ بستی میں انجمن اصلاحُ البیان کے زیر اہتمام 16؍مارچ برورزجمعرات کومنعقد ہونے والا سالانہ اختتامی پروگرام کی تیاریاں مکمل کرگئی ہیں، پہلی نشست صبح ۷؍بجے تا ۱۱؍بجے دن، دوسری نشست بعد نما ز ظہر تا عصر اور تیسری وعمومی نشست بعد نماز مغرب تا ۱۱؍بجے شب ہوگا ۔  مذکورہ اطلاع دیتے ہوئے دارالعلوم کے ناظم مولانا محمداسعد قاسمی نے بتایا کہ طلبہ کے اس پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا خطاب عام ہوگا۔ مولانا قاسمی نے طلباء کے اس عظیم ترین اجلاس میں عوام وخواص سے شرکت کی پرخلوص اپیل کی ہے۔

Saturday, 11 March 2017

نتائج کا اعلان ، پانچوں سیٹوں پر بھاجپا کا قبضہ، کپتان گنج سے ۲۵؍سال کا ریکارڈ ٹوٹا

(بیورو رپورٹ)

بستی : اترپردیش کے ۱۷ویں اسمبلی الیکشن کے نتائج کا اعلان آج الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق کردیا گیا جس میں ضلع بستی کے کل پانچوں اسمبلی حلقوں میں بی جے پی سب پر بھاری پڑی اور مخالف امیدواروں کو پٹخنی دیتے ہوئے تاریخی جیت رقم کی۔ بستی کی کل پانچ اسمبلی حلقوں میں تقریباً سبھی حلقہ اہم مانے جارہے تھے جس میں تین وزراء کا وقار بھی دائو پر لگا تھا ، ہریا سے اکھلیش حکومت کے کابینی وزیر راج کشور سنگھ کو بی جے پی اجے سنگھ نے زبردست شکست دیتے ہوئے کمل کھلانے کا خواب پورا کرلیا، اسی طرح مایاوتی حکومت کے کابینی وزیر رام پرساد چودھری کو سی پی شکلا (بی جے پی) نے ۷۰۶۳؍ووٹوں شکست دیتے ہوئے ۲۵؍سال کے قبضہ کا ریکارڈ توڑ دیا، یہی حال مہادیوا اسمبلی حلقہ کا بھی ہے یہاں سے اکھلیش حکومت کے کابینہ میں وزیر رہے رام کرن آریہ کو روی سونکر (بی جے پی) نے ۳۴۵۱۵؍ووٹوں سے شکست دی ،جبکہ دوسرے نمبر پر بی ایس پی کے دودھ رام رہے۔ یہاں کی سیٹ اس لئے بھی زیادہ اہم تھی کہ یہاں سے ہر جیتنے والے امیدوار کے پارٹی کی ہی صوبہ میں حکومت بنتی ہے، اور یہ تاریخی ریکارڈ ایک بار پھررقم کرتے ہوئے بھاجپا کے روی سونکر نے اپنی پارٹی کی حکومت بنانے کا کام کیا ہے۔ 
بستی صدر سے دیارام چودھری (بی جے پی) نے اپنی فتح کا پرچم بلند کرتے ہوئے ایک بار یہاں سے سماجوادی پارٹی کا کھاتہ نہ کھولوانے میں اہم رول ادا کیا ہے، واضح رہے کہ یہاں سے آج تک سماجوادی پارٹی جیت حاصل نہیں کرسکی ہے۔ رودھولی اسمبلی حلقہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ۲۸؍سال کا طویل بنواس ختم کرلیا اور سنجے جیسوال (بی جے پی) کے سہارے ۱۹۸۹ء کے بعد۲۰۱۷ء کے اسمبلی الیکشن میں ایک بار پھر اپنی فتح کا جھنڈا گاڑنے میں کامیاب رہی ۔ 
بستی کی کل پانچ اسمبلی حلقوں سے کس پارٹی کے امیدوار نے پائے کتنے ووٹ:
۳۰۷ہریا، کل ۲۱۴۶۳۲؍ووٹ ڈالے گئے۔
شمار نام امیدوار پارٹی  کل ووٹ
۱۔ اجے سنگھ بی جے پی  کامیاب ۹۷۰۱۴
۲۔ راج کشور سنگھ  سماجوادی پارٹی ۶۶۹۰۸
۳۔ وِپن کمار شکلا بہوجن سماج پارٹی ۳۹۷۴۹
۴۔ چندر منی پانڈے  آرایل ڈی  ۱۹۵۰
۵۔ ۲۲۷۴؍لوگوں نے نوٹا بٹن کا استعمال کیا۔
۳۰۸کپتان گنج، کل ۲۰۰۳۴۶؍ووٹ ڈالے گئے۔
شمار نام امیدوار پارٹی  کل ووٹ
۱۔ چندر پرکاش شکلا بی جے پی  کامیاب    ۷۰۳۹۶
۲۔ رام پرساد چودھری  بی ایس پی  ۶۳۳۳۴
۳۔ کرشن کنکر سنگھ رانا کانگریس  ۵۹۸۶۲
۴۔ شیر سنگھ  آر ایل ڈی  ۱۲۲۹
۵۔ ۱۸۹۸؍لوگوں نے نوٹابٹن کا استعمال کیا۔
۳۰۹رودھولی، کل ۲۰۳۰۶۶؍ووٹ ڈالے گئے۔
شمار نام امیدوار پارٹی  کل ووٹ
۱۔ سنجے جیسوال  بی جے پی  کامیاب ۹۰۱۱۷ 
۲۔ راجندر پرساد چودھری  بی ایس پی  ۶۸۱۹۴
۳۔ سعید احمد خان  کانگریس  ۵۱۵۶۷
۴۔ پرمود کمار سنگھ  آر ایل دی  ۱۳۴۲
۵۔ ۲۰۵۹؍لوگوں نے نوٹا بٹن کا استعمال کیا۔
۳۱۰بستی صدر، کل ۲۰۵۷۵۲؍ووٹ ڈالے گئے۔
شمار نام امیدوار پارٹی  کل ووٹ
۱۔ دیارام چودھری بی جے پی  کامیاب    ۹۲۴۱۱
۲۔ مہیندر ناتھ یادو  سماجوادی پارٹی  ۵۹۸۶۵
۳۔ جتیندر کمار نندوچودھری  بی ایس پی  ۴۹۲۳۱
۴۔ راجا ایشوریہ راج سنگھ  آر ایل ڈی  ۴۱۳۶
۵۔ ۱۲۰۴؍لوگوں نے نوٹا بٹن کا استعمال کیا۔ 
۳۱۱مہادیوا: کل ۱۹۹۳۱۷؍ووٹ ڈالے گئے۔
شمار نام امیدوار پارٹی  کل ووٹ
۱۔  روی سونکر  بی جے پی  کامیاب ۸۲۴۲۹
۲۔ دودھ رام  بی ایس پی    ۵۶۵۴۵
۳۔ رام کرن آریہ  سماجوادی پارٹی  ۴۷۹۱۴
۴۔ گووردھن  نشاد پارٹی  ۵۶۳۹
۵۔ ۲۲۳۱؍لوگوں نے نوٹا بٹن کا استعمال کیا۔ جبکہ مہادیوامیں کل 

Saturday, 11 February 2017

ترقیاتی کاموں کو چھوڑ کر لوگ الزام تراشی ونفرت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں

مقامی پریس کلب میں صحافیوں سے مخاطب نیلم سنگھ
بستی صدر سے آزاد امیدوار کے طور پر سیاسی میدان میں آئیں نیلم سنگھ نے مقامی پریس کلب آڈیٹوریم میں صحافیوں سے بات چیت کی،کہا اسمبلی انتخابات میں سیاسی پارٹیوں نے ٹکٹ تقسیم میں خواتین کونظرانداز کیاہے، کل ۴۰۳؍اسمبلی حلقوں والے اترپردیش میں ۱۰؍فیصد خواتین کو بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔
(صدائے حق نیوز)
    بستی(بیورو) : خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے تئیں ہمدردی جتانے والی سیاسی پارٹیوں نے اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ تقسیم میں خواتین کونظرانداز کردیا ہے، کل ۴۰۳؍اسمبلی حلقوں والے اترپردیش میں ۱۰؍فیصد خواتین کو بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ مذکورہ باتیں بستی صدر سے آزاد امیدوار کے طور پر سیاسی میدان میں آئیں نیلم سنگھ نے مقامی پریس کلب آڈیٹوریم میں صحافیوں سے بات چیت میں کہیں۔
     انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۲ء میں کل ۳۲؍خواتین کو نمائندگی کا موقع ملا تھا، اعدادوشمار انتہائی شرمناک ہیں، ایسے میں خواتین کو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنا مجبوری ہے۔ نیلم سنگھ نے کہا کہ سیاستی جماعتوں اور رہنمائوں کے منہ سے خواتین کے تحفظ، عزت اور ان کے حقوق سے متعلق باتیں کرنا بالکل بے معنی اور بے سود لگتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک خواتین خود آگے آکر اپنی طاقت اوریکجہتی کا احساس نہیں کرائیں گی تب تک خواتین کے تعلق سے ہمدردی یوں ہی بے قیمت فروخت ہوتی رہے گی اور سیاسی جماعتیں ولیڈران استعمال کرتے رہیں گے۔ بستی صدر سے آزاد امیدوار نیلم سنگھ نے صحافیوں سے بات چیت میں مزید کہا کہ ترقی اور بہتری کی سیاست کو چھوڑ کر لوگ الزام تراشی اور نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں، ذات ،مذہب اور نسلی بھیدبھائو کے نام ووٹروں کو ٹھگاجارہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں ٹکٹ دینے سے پہلے متعلقہ اسمبلی حلقہ کے نسلی مساوات کا جائزہ لیتے ہیں ، سرکاری اسکیموں کا فائدہ دینے کیلئے عوام سے ان کی ذات پوچھی جاتی ہے، کہا کہ ملک کو آزاد ہوئے ۷۰؍سال ہوگئے لیکن ہم اب تک ان دقیانوسی کھیلوں سے باہر نہیں نکل پائے۔ رہی بات بستی کی ترقی کی تو بستی کے عوام نے کئی لیڈراور وزیر چن کر دیئے ہیں لیکن ترقی کی رفتار انتہائی سست رہی ہے، تقریباً ۶؍کلومیٹر کے دائرہ میں سمٹے بستی شہر میں دو سڑکوں کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دیتا ہے۔ نیلم سنگھ نے کہا جب تک ہم ذات ،مذہب ، نسلی بھیدبھائو سے اوپر نہیں اٹھیں گے تب تک تعصب مبرا ترقی نہیں ہوپائے گی، انہوں نے ووٹروں سے ان تمام جذبات سے اوپر اُٹھ کر ووٹنگ کرنے کی اپیل کی، ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا کہ بستی کے عوام نے اگر موقع دیا تو جو کچھ ہماری سوچ میں ہے اسے زمینی سطح پر جگہ دیجائے گی۔


خبروں ومراسلات کیلئے رابطہ کریں: sadaehaquebasti@gmail.com
 ......................
تازہ ترین خبریں پڑھنے کیلئے صدائے حق بستی سوشل نیوز نیٹ ورک پر لا آن کریں۔


نامزدگی کاغذات کی جانچ کے بعد امیدواروں کی تعداد ۷۱؍ سے اب ۶۳ رہ گئی۔


بستی ضلع کے کل پانچ اسمبلی حلقوں سے ۷۱؍امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا، جس میں نامزدگی کاغذات کی جانچ کے بعد بستی صدر ورودھولی اسمبلی حلقہ سے کل۸؍امیدواروں کے فارم تکنیکی کمی کی وجہ سے رِجیکٹ کردیئے گئے٭اتنظامیہ کو اب ۸۱۳؍ای وی ایم کا بندوبست بھی نہیں کرنا پڑے گا

(صدائے حق نیوز)
    بستی(بیورو) : اسمبلی انتخابات کیلئے بستی ضلع کے کل پانچ اسمبلی حلقوں سے ۷۱؍امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا، جس میں نامزدگی کاغذات کی جانچ کے بعد بستی صدر ورودھولی اسمبلی حلقہ سے کل۸؍امیدواروں کے فارم تکنیکی کمی کی وجہ سے رِجیکٹ کردیئے گئے، جس کے بعد امیدواروں کی تعداد گھٹ کر ۶۳؍ہوگئی۔۸؍امیدواروں کے فارم رِجیکٹ کئے جانے سے جہاں انتظامیہ نے راحت کی سانس لی وہیں اب انتظامیہ کو بستی ورودھولی اسمبلی حلقہ میں ۸۱۳؍اضافی الیکشن ووٹنگ مشین کا بندوبست بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
    اصولی طور پر کہ اگر کسی اسمبلی حلقہ میں امیدواروں کی تعداد ۱۶؍سے زیادہ ہوتی ہے تو وہاں کے ہر پولنگ بوتھ پر ایک اضافی ای وی ایم کا انتظام کرنا پڑتا ہے، ایک ای وی ایم میں صرف ۱۶؍امیدواروں کے ناموں کا بندوبست رہتا ہے، اس میں ۱۵؍نام امیدوارو ںکے اور ایک نوٹا کیلئے رہتا ہے۔ نامزدگی کاغذات کی جانچ کے بعد جہاں انتظامیہ کو کافی راحت ملی ہے تو وہیں پانچ اسمبلی حلقوں میں امیدواروں کی تعداد۷۱؍ سے گھٹ کر۶۳رہ گئی ہے۔ سب سے زیادہ امیدوار رودھولی اسمبلی حلقہ میں تھے یہاں سے کل ۲۰؍امیدواروں نے پرچہ داخل کیا تھا، اسی طرح بستی صدر سے ۱۸؍امیدواروں نے نامزدگی کاغذات داخل کئے تھے، ذرائع کے مطابق پرچوں کی جانچ سے پہلے ہی انتظامیہ کو یہ امید تھی کہ دونوں اسمبلیوں میں اضافی ای وی ایم کا بندوبست نہیں کرنا پڑے گا، فارم رِجیکٹ ہونے کی وجہ تکنیکی کمی کا ہونا تبایا گیا ہے۔ بستی صدر سے جن چار امیدواروں کے فارم رِجیکٹ کئے گئے ہیں ان میں نعمان احمد(این سی پی) محمد ناظم(آزادامیدوار) ، روی سین گوتم (آزاد امیدوار)، اور مانک رام مشرا (آزاد امیدوار) کے نام شامل ہیں۔ اسی طرح رودھولی سے کاجل، دیومتی، رام شنکر، لکشمی کانت بھٹ (سبھی آزاد امیدوار) کے نام شامل ہیں۔ ویسے پانچوں اسمبلی حلقوں سے کتنے امیدوار میدان میں قسمت آزمائی کریں گے اس کا پتہ تو نام واپسی یعنی ۱۳؍فروری کے دن ہی چل پائے گا، فی الحال پرچوں کی تقسیم کے بعد بستی صدر سے ۱۴؍، مہادیوا (محفوظ ) سے ۹، کپتان گنج سے ۱۰، رودھولی سے ۱۶، اور ہریا حلقہ سے ۱۴؍امیدوار سمیت کل ۶۳؍امیدوار رہ گئے ہیں۔


خبریں ومراسلات بھیجنے کیلئے رابطہ کریں: sadaehaquebasti@gmail.com
 ......................
تازہ ترین خبریں پڑھنے کیلئے صدائے حق بستی سوشل نیوز نیٹ ورک پر لا آن کریں۔

یوپی اسمبلی الیکشن۲۰۱۷ئ: یہ وقت سیکولررائے دہندگان کے لیے سخت آزمائش کاہے۔


ھلال احمد’’ایڈیٹر ماہنامہ الاتحاد،ممبئی‘‘

ہلال احمد؍ایڈیٹرماہنامہ’الاتحاد‘ممبئی

    یوپی کی سیاست اوراس کاانتخاب ہرخاص وعام کی زبان پرہے،ریاست میں حزب اقتدارسماجوادی پارٹی اورکانگریس کے اتحادنے الیکشن کومزیددلچسپ بنادیاہے،کانگریس اورسپااپنے نوجوان لیڈران راہل گاندھی اوراکھلیش یادوپرکافی اعتمادکیے ہوئے ہیں جس کے چلتے دونوں ہی میدان میں متحدہ طورپرایک کے بعدایک مسلسل ریلیاں اورروڈشوزکرکے اپنے دم پرووٹ جمع کرنے پرلگے ہوئے ہیں۔اکھلیش یادواپنے پانچ سالہ کارکردگی اورترقی کے حوالہ سے ووٹ مانگ رہے ہیں ،توراہل گاندھی نوجوانوں اورکسانوں کواپنی جانب راغب کرنے کے لیے پوری دم خم لگارہے ہیں۔متحدہ محاذ نے ’کام بولتاہے،اوریوپی کے دوہی پسنداکھلیش اورراہل کے سنگ ‘کا نعرے لے کرمیدان میں پوری طرح سرگرم ہے۔حالانکہ دیکھاجائے تویوپی میں ترقی توہوئی ہے تاہم لاء اینڈآرڈرہرہمیشہ سوالیہ نشان لگتارہاہے۔اسی طرح بہوجن سماج پارٹی کی سپریمومایاوتی اپنے پارٹی اورکارکنان کولے کرکافی پرجوش نظرآرہی ہیں جس کے چلتے کسی سیکولریاعلاقائی پارٹی سے اتحادکرنے کی موڈمیں بالکل نہیں ہیں ۔اب جبکہ الیکشن سرپرہے اتحادممکن بھی نہیں ۔انہیں مخصوص طبقے کے ووٹ بینک پرمکمل اعتمادہے اوریوپی میں دوبارہ واپسی کے لیے پرجو ش ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی کی جانب سے یوپی میں کوئی مقبول عام لیڈرنہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم نریندرمودی بذات خودپارٹی پرچارک کے طورپرمیدان میں ہیں۔حالانکہ دیکھاجائے توپی ایم نریندرمودی پارلیمانی انتخاب کے بعدملک کے جس ریاست میں بھی اسمبلی انتخاب ہوئے ہرجگہ اسٹارپرچارک کے روپ میں خود کوپیش کیاہے جس کی واضح مثال گزشتہ سال دہلی، بہاراورحالیہ دنوںپنجاب کا الیکشن ہے۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق مودی جی میں قوت برقرارنہیں رہ گئی ہے کہ جس کے بل پرووٹ اکٹھاکرسکیں کیونکہ مسلسل ہورہے انتخابی اعلان کے سبب لوگوں میں ان کے تئیں اعتمادمیں حددرجہ کمی آچکی ہے۔ چیونکہ انتخابی جملہ بازی اورحقیقت بیانی میں کہیں ناکہیں لوگ دھوکہ کھاجارہے ہیں۔ نوٹ بندی نے غریبوں،کسانوں،کاروباری اورمزدورطبقہ افرادکی کمرتوڑکررکھ دی ہے،مرکزمیں حزب اقتدارکے تئیں لوگوں میں غم وغصہ اب بھی برقرارہے ،اسی طرح دیہی علاقوںمیں حالات اب بھی ناگفتہ بہ ہیں ،لوگ گھنٹوں بینکوںکے قطارمیں لگے رہنے پرمجبورہیں۔ نوٹ بندی اوراس کے بعدپیش آمدہ حالات سے بہرصورت متحدہ محاذاورسیکولرجماعتوںکوفائدہ حاصل ہونے کی قوی امیدہے ۔علاوہ ازیںمودی جی یوپی الیکشن میں جس طرح کی سیاسی بیان بازی دے رہے ہیں ایک باوقارعہدے کوزیب نہیں دیتاہے کہ اس طرح کی جملہ اوربیان بازی کے ذریعہ عوام کوگمراہ کریں۔انہوں نے اب تک سیکڑوں نعرے لگائے جس میں کچھ توزبان زدعام بھی ہوئے لیکن زمینی حقیقت صفررہی ہے۔ اب جبکہ یوپی میں اسٹارپرچارک کے طورپرمیدان میں ہیں انہوں نے’ اسکیم‘ کی نئی اصطلاح پیش کرکے جہاں مدمقابل کونیچادکھانے کی کوشش کی ؛وہیں متحدہ محاذاوربسپا بھی دفاع میں آگئی ہیں جس سے بہرصورت ملک کے عظیم عہدے پرفائزشخص کاوقارمجروح ہورہاہے،جوکہ قابل افسوس ہے۔اس طرح کی سطحی بیان بازی سے گریزکرناازحدضروری ہے۔
    سیاسی مبصرین کے مطابق اکھلیش یادواورراہل گاندھی کے لیے یوپی الیکشن انتہائی اہم ماناجارہاہے کہ اگریہ دونوں لوگ اپنے بل پریوپی میں دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں توان کااگلاہدف بھی آسان ہوسکتاہے۔راہل گاندھی نے انتخابی ریلی کوخطاب کرتے ہوئے یوپی کے نوجوانوں میں روح پھونکنے کاکام کیاہے انہوں نے کانپورمیں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا’غریب نوجوانوں کومفت میں آئی آئی ٹی،آئی آئی ایم اورمیڈیکل امتحان میں تیاری کے لیے بہترین وسائل فراہم کریں گے،چھوٹے چھوٹے بزنس اورفیکٹریاں چلانے والوں کوکم شرح پرلون فراہم کریں گے۔انہوں نے کسانوں کے تئیں کہاکہ ہم متحدہوکرکسانوں کی مددکے لیے یوپی کوعالمی پیمانے کی فوڈفیکٹری بنائیں گے‘۔اسی طرح مختلف نعروں اوراعلانات کے ذریعہ دونوں نوجوان لیڈران یکے بعدکئی انتخابی پروگرام کررہے ہیں۔علاوہ ازیں اکھلیش یادونے نوجوانوں سے اپنی واپسی پراسمارٹ فون دینے کاوعدہ کیا۔جس پرخودوزیراعلی اکھلیش یادوکے مطابق ایک کروڑسے زائدلوگ اب تک رجسٹریشن کرواچکے ہیں۔سماجوادی پارٹی میں اتحادکی وجہ سے مزیدطاقت آگئی ہے جس سے بھگواخیمے میں بے چینی یقینی ہے جس کے چلتے بائیںبازوکے منہ پھٹ اوربدزبان لیڈروںکی زہرافشانیاں منظرعام پرآرہی ہیں۔یوپی میں اقتدارہتھیانے کاخواب دیکھ رہی بی جے پی کی مذہبی عقائدکے استحصال کی نیا متحدہ محاذکے بھنورمیں الجھتی نظرآرہی ہے۔ترقی کے نام پرپارلیمانی انتخاب جیتنے والی مودی حکومت آخرکاراپنے عادت رفتہ پراترآئی ہے،ڈھائی سال سے زائدکاعرصہ گزرجانے کے بعدخال خال ترقی نظرآرہی ہے وہ بھی سیاسی گلیاروں اورمیڈیاہاؤس تک۔یوپی میں نئی حکمت عملی اورترقی کانام نہادمکھوٹابھسم ہونے کے دہانے پرہے اس لیے مذہبی اورعقیدتی استحصال کاسلسلہ شروع ہوگیاہے۔خواتین کے ہمہ جہت ترقی کے نام پرمسلمانوںکے مذہبی قوانین میں دراندازی کے ناپاک کوشش کی جارہی ہے ،زعفرانی پارٹی کی طرف سے بیان آیاہے کہ ’یوپی الیکشن کے بعدمرکزی حکومت تین طلاق پرپابندی کے ضمن میں بڑافیصلہ کرے گی‘انہوں نے طلاق ثلاثہ کومذہبی برائی سے تعبیرکیاہے‘ جس سے مرکزی حکومت کی نیت صاف ظاہرہورہی ہے کہ مسلمانوں کے تئیں اوریوپی الیکشن کے پیش نظرکس حدتک یہ پارٹی جاسکتی ہے۔
    دراصل یوپی الیکشن سیکولرزم اورفاسسٹ وفاسزم کی لڑائی ہے ،اگریوپی میں زعفرانی پارٹی قائم ہوتی ہے توانہیں پورے ملک میںکھل کھیلنے کاموقع مل جائے گا۔دانشوروںاورقلمکاروں کے ذریعہ قبل ازانتخاب اس بات کاخدشہ ظاہرکیاجاچکاہے کہ یوپی انتخاب میں بھگواپارٹی تمام حدودپارسکتی ہے۔جوحرف بہ حرف صادق آرہاہے۔جیسے جیسے انتخاب قریب آرہے ہیں بی جے پی اپنی روایتی ووٹوں کویکجاکرنے کے لیے اوچھی بیان بازی کررہی ہے۔تاہم بارہادھوکہ کھانے والے یوپی کے عوام اسمارٹ ہوچکے ہیں،انہیں بہکانااب سیاسی جماعتوںکے بس میں نہیں ہے۔ ہرایک حالات پرنظررکھے ہوئے ہے۔وقت ہے سیکولرطاقتوں کوسرجوڑکرحکمت عملی تیارکرنے کا۔وقت ہے فاسسٹ ذہنیت کودھول چٹانے کا،وقت ہے سیکولرووٹ کوتقسیم سے بچانے کا،وقت ہے ہندومسلم اتحادپرزوردینے کاتاکہ مذہبی وعقائدکے خطوط پرانہیں تقسیم نہ کیاجاسکے۔یہ وقت سیکولررائے دہندگان کے لیے سخت آزمائش کاہے ،اس لیے انہیں سوچ سمجھ کرقدم اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کاووٹ رائیگاں نہ جائے اورملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقراررہے۔


خبروں ومراسلات کیلئے رابطہ کریں: sadaehaquebasti@gmail.com
 ......................
تازہ ترین خبریں پڑھنے کیلئے صدائے حق بستی سوشل نیوز نیٹ ورک پر لا آن کریں۔

Monday, 6 February 2017

مفتی عبدالحنان فیضی ؒپوری عمر درس وتدریس سے وابستہ رہے:


(گوونڈی ممبئی سے ہلال ہدایت)
    (پریس ریلیز):موت برحق ہے جس سے کسی انسان کومفرنہیں ،دنیاکی روایت رہی ہے کہ آنے والے چلے جاتے ہیں صرف ان کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں،لیکن بعض شخصیات اپنے کارناموں نے لوگوں کے دلوں میں ایسے نقوش چھوڑجاتے ہیں کہ جن کے کھوجانے سے دلوں کے زخم جلدمندمل نہیں ہوپاتے۔انہیں میں سے جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین ،استاذالاساتذہ،مفتی ٔ جامعہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگرنیپال مولانا عبدالحنان فیضی رحمہ اللہ کاطویل علالت کے بعدمیں۳؍فروری رات ۱۰؍بجے انتقال ہوگیااناللہ وناالیہ راجعون۔مولانارحمہ اللہ علم وعمل ،درس وتدریس اورافتاء میں اپنی مثال آپ تھے۔ان کے انتقال سے جمعیت اہل حدیث نے اپناایک عظیم سپوت کھودیاہے ،انہوں نے اپنی پوری زندگی دین حنیف کی نشرواشاعت میں گزاری ،اورآخری دم تک افتاء جیسے اہم امورانجام دیتے رہے ۔ مولاناعبدالحنان فیضی بن مولانامحمدزماںکاتعلق ضلع سدھارتھ نگرکے تحصیل حلقہ شہرت گڑھ کے معروف مشہورگاؤں انتری بازارسے تھا،ان کی پیدائش دسمبر۱۹۳۴ء میں ہوئی ۔پرائمری کی تعلیم مدرسہ بحرالعلوم انتری بازارمیں حاصل کی،اس کے بعدششہنیاں اوردوسال جامعہ سراج العلوم جھنڈانگرسے تعلیم کرنے کے بعدمدرسہ فیض عام مئوناتھ بھنجن چلے گئے،جہاں معروف علماء کرام سے اکتساب فیض کیا۔فراغت کے بعدجامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگراورجامعہ سلفیہ بنارس میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)بنارس میں چارسال تدریس سے ملحق رہنے کے بعد خطیب الاسلام مولاناعبدالرؤف رحمانی جھنڈانگریؒ کی دعوت پرجامعہ سراج العلوم جھنڈانگرسے وابستہ ہوگئے اورتاحیات یہیںافتاء اورتدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ میدان تدریس کا سپہ سالار،امت کے مسائل کوقرآن وحدیث اور فقہ اسلامی سے حل کرنے والے فخرقوم وملت اورخادم قرآن وسنت حضرت مولانا مفتی صاحب کے انتقال سے یہ مسندسونی ہوگئی جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظرنہیں آرہی ہے۔جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال آج شعبہ افتائ، درس بخاری اورتفسیر فتح القدیر کادرس دینے والے کہنہ مشق استاذ سے محروم ہوگیا۔مولانارحمہ اللہ کے صاحبزادے شیخ محترم مولاناعبدالمنان سلفی صاحب استادجامعہ سراج العلوم جھنڈانگر اپنے والدگرامی کی راہ پرالحمدللہ چل رہے ہیں جن نے جمعیت وجماعت اہلحدیث کی امیدیں وابستہ ہیں۔مولانانے اپنے پیچھے شاگردوںکی طویل فہرست چھوڑی ہے جن میں معروف عالم دین جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم اعلی مولاناصلاح الدین مقبول احمدکویت،مفتی ٔ حرم ڈاکٹروصی اللہ عباس مدنی،ڈاکٹرفتح الباری مدنی؍استادجامعۃ الملک سعودریاض،ڈاکٹررضاء اللہ مبارک پوری ،مولانامحمدمستقیم سلفی؍استادجامعہ سلفیہ بنارس،مولاناعبدالمعیدمدنی علی گڑھ،ڈاکٹرعزیرشمس پروفیسرجامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ،مولاناعبدالواحدمدنی ڈومریاگنج سرفہرست ہیں۔اللہ رب العالمین مولاناؒکے لغزشوں کومعاف کرتے ہوئے ان کے قبرکونورسے بھردے اورجنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائے ،نیزلواحقین کوصبروجمیل عطافرمائے۔(آمین)

مفتی عبدالحنان فیضی ؒپوری عمر درس وتدریس سے وابستہ رہے:
(گوونڈی ممبئی سے ہلال ہدایت)
    (پریس ریلیز):موت برحق ہے جس سے کسی انسان کومفرنہیں ،دنیاکی روایت رہی ہے کہ آنے والے چلے جاتے ہیں صرف ان کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں،لیکن بعض شخصیات اپنے کارناموں نے لوگوں کے دلوں میں ایسے نقوش چھوڑجاتے ہیں کہ جن کے کھوجانے سے دلوں کے زخم جلدمندمل نہیں ہوپاتے۔انہیں میں سے جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین ،استاذالاساتذہ،مفتی ٔ جامعہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگرنیپال مولانا عبدالحنان فیضی رحمہ اللہ کاطویل علالت کے بعدمیں۳؍فروری رات ۱۰؍بجے انتقال ہوگیااناللہ وناالیہ راجعون۔مولانارحمہ اللہ علم وعمل ،درس وتدریس اورافتاء میں اپنی مثال آپ تھے۔ان کے انتقال سے جمعیت اہل حدیث نے اپناایک عظیم سپوت کھودیاہے ،انہوں نے اپنی پوری زندگی دین حنیف کی نشرواشاعت میں گزاری ،اورآخری دم تک افتاء جیسے اہم امورانجام دیتے رہے ۔ مولاناعبدالحنان فیضی بن مولانامحمدزماںکاتعلق ضلع سدھارتھ نگرکے تحصیل حلقہ شہرت گڑھ کے معروف مشہورگاؤں انتری بازارسے تھا،ان کی پیدائش دسمبر۱۹۳۴ء میں ہوئی ۔پرائمری کی تعلیم مدرسہ بحرالعلوم انتری بازارمیں حاصل کی،اس کے بعدششہنیاں اوردوسال جامعہ سراج العلوم جھنڈانگرسے تعلیم کرنے کے بعدمدرسہ فیض عام مئوناتھ بھنجن چلے گئے،جہاں معروف علماء کرام سے اکتساب فیض کیا۔فراغت کے بعدجامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگراورجامعہ سلفیہ بنارس میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیئے ۔ جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)بنارس میں چارسال تدریس سے ملحق رہنے کے بعد خطیب الاسلام مولاناعبدالرؤف رحمانی جھنڈانگریؒ کی دعوت پرجامعہ سراج العلوم جھنڈانگرسے وابستہ ہوگئے اورتاحیات یہیںافتاء اورتدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ میدان تدریس کا سپہ سالار،امت کے مسائل کوقرآن وحدیث اور فقہ اسلامی سے حل کرنے والے فخرقوم وملت اورخادم قرآن وسنت حضرت مولانا مفتی صاحب کے انتقال سے یہ مسندسونی ہوگئی جس کی بھرپائی مستقبل قریب میں نظرنہیں آرہی ہے۔جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال آج شعبہ افتائ، درس بخاری اورتفسیر فتح القدیر کادرس دینے والے کہنہ مشق استاذ سے محروم ہوگیا۔مولانارحمہ اللہ کے صاحبزادے شیخ محترم مولاناعبدالمنان سلفی صاحب استادجامعہ سراج العلوم جھنڈانگر اپنے والدگرامی کی راہ پرالحمدللہ چل رہے ہیں جن نے جمعیت وجماعت اہلحدیث کی امیدیں وابستہ ہیں۔مولانانے اپنے پیچھے شاگردوںکی طویل فہرست چھوڑی ہے جن میں معروف عالم دین جمعیت اہل حدیث ہندکے ناظم اعلی مولاناصلاح الدین مقبول احمدکویت،مفتی ٔ حرم ڈاکٹروصی اللہ عباس مدنی،ڈاکٹرفتح الباری مدنی؍استادجامعۃ الملک سعودریاض،ڈاکٹررضاء اللہ مبارک پوری ،مولانامحمدمستقیم سلفی؍استادجامعہ سلفیہ بنارس،مولاناعبدالمعیدمدنی علی گڑھ،ڈاکٹرعزیرشمس پروفیسرجامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ،مولاناعبدالواحدمدنی ڈومریاگنج سرفہرست ہیں۔اللہ رب العالمین مولاناؒکے لغزشوں کومعاف کرتے ہوئے ان کے قبرکونورسے بھردے اورجنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائے ،نیزلواحقین کوصبروجمیل عطافرمائے۔(آمین)

Monday, 30 January 2017

اسلاف کی قربانیوں کا ذکر کئے بغیر آزادیٔ ہند کی تاریخ ادھوری: مولانا شفیق احمد

(پریس ریلیز)
بموقع ۲۶؍جنوری ۲۰۱۷ئ:
    گورکھپور(طلحہ قاسمی):۶۸؍ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر مدرسہ جامع الہدیٰ واقرا دینیات بختیار محلہ کے زیر اہتمام گذشتہ شب بعد نماز مغرب تحریری، تقریری واسلامک کوئیز مقابلہ کا انعقاد کیا گیا جس میں تقریباً سیکڑوںبچوں نے حصہ لیا اور ’آزادیٔ ہند میں مسلم علماء کرام وعوام ‘کے موضوع پر اپنی صلاحیتوں کا زبردست مظاہرہ کیا۔ تحریری مقابلہ میں زینت خاتون بنت نجم الدین نے پہلا مقام حاصل کیا، جبکہ تقریری مقابلہ میںپہلا مقام محمد منت اللہ ولد حافظ ذکراللہ نے حاصل کیا۔
    اس موقع پر انجمن تعلیمات دین وصدر جمعیۃ علماء گورکھپور حکیم مولانا جنید عالم ندوی نے پروگرام کی ضرورت وافادیت کو سراہتے ہوئے  کہا کہ دینی تعلیم اور اسلامی تاریخ کاجاننا بہت ضروری ہے، ہماری پوری ذمہ داری بنتی ہے کہ نئی نسل کو اسلاف کی قربانیوں سے روشناس کرائیں ۔ مقرر خصوصی مولانا شفیق احمد قاسمی استاذ مدرسہ شیخ الہندانجان شہید اعظم گڈھ نے ملک کی آزادی پر تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک آزاد ہونے کے ۷۰؍سال بعد بھی مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ملک کو آزادی دلانے میں ہمارے اسلاف نے سب سے نمایاں  کردار ادا کیا ہے، انہوں کہا کہ فرقہ پرست مؤرخوں نے ہمارے اسلاف کی بے مثال قربانیوں کو اپنی تاریخی کتابوں میں جگہ نہ دے کر ملک کی تاریخ کو ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ جبکہ یہی علماء کرام واسلاف نے آزادی کیلئے پھانسی کے پھندوں کو چوما اور سینوں پر گولیاں کھائیں اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کر کے شہیدانِ ملت کی فہرست میں اپنا نام سنہرے حروف سے نقش کرایا۔مذکورہ پروگرام کا آغاز حافظ محمداَذہان کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا، اس کے بعد محمدعاطف نے نعت کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا سعیداللہ قاسمی استاذ مدرسہ شیخ الہند انجان شہید اعظم گڈھ نے انجام دی، پروگرام کے اختتام پر’’تحریر، تقریری واسلامک کوئیز ‘‘مقابلہ میں حصہ لینے والے سبھی بچوں کو تشجیعی وعمومی انعامات واسناد سے نوازا گیا، جس میں تحریری مقابلہ کا پہلا انعام زینت خاتون کو ۳۰۰۰؍روپئے نقد اور ایک ہزار روپئے کتابیں دی گئیں۔مذکورہ پروگرام کی سرپرستی قاضی شہر مفتی ولی اللہ نے کی ، اس موقع پر قومی ترانہ سارے جہاںسے اچھا ۔۔۔۔ گلشین، شاربہ، نسیمہ، انشرا، علیشا، منیبہ نے بہت اچھے انداز میںپیش کیاجبکہ استقبالیہ نظم عِلما ، مسکان، علینا، منیبہ ، انابل، ذوبیہ نے پیش کرکے پروگرام کو زینت بخشی ۔
     اس موقع بطورمدعووین ومہمانان خصوصی میں بطور خاص ، مولانا محمدصادق ، مفتی محمد دائود، مولانا محمداطہر ، الحاج معاشراللہ آرٹی او، ڈاکٹر ساجد اردو ڈپارٹمنٹ سینٹ اینڈ بیوز کالج گورکھپور، انعام اللہ عبدالصمدمتعلم جامعۃ الامام محمد بن سعود اسلامیہ ریاض سعودیہ واہالیان بختیار محلہ سمیت گورکھپور کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر کنوینر اجلاس مولانا محمدطلحہ قاسمی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کامیاب ہونے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔

Friday, 13 January 2017

پیس پارٹی ونشاد پارٹی اتحاد نے بستی صدر سے اَمر پال کو امیدوارنامزدکیا


(ایس ایچ بی)
    بستی : پیس پارٹی ونشاد پارٹی اتحاد نے اسمبلی حلقہ بستی صدر سے امر پال سوریہ ونشی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ آج یہاں مقامی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ امر پال نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سماج کے پسماندہ برادریوںاور اقلیتی طبقوں کو آزادی اور جمہوریت کا فائدہ نہیں پہونچے گا اس وقت تک ایک بہترسماج کاتعمیر ہوناناممکن ہے، انہوں نے کہا کہ دیگر پارٹیوں نے غریبوں اور اقلتیوں کے ووٹوں کا استعمال صرف اقتدار کیلئے ہی کیا ہے، ابھی تک کسی پارٹی نے سماج کے کمزوروں اور غریبوں کیلئے کوئی اہم کام نہیں کیا، اس لئے غریبوں، کمزوروں اور کسانوں کو چاہئے کو وہ اپنے حق کیلئے اُٹھ کھڑے ہوں اور حقوق کو سمجھتے ہوئے سیاسی بدلائو کیلئے آگے آئیں ۔ اَمر پال نے کہا کہ میں انہیں پیغامات کو لیکر بستی صدر سے انتخابی میدان میں قدم رکھا ہوں ،تاکہ سماج کے دبے کچلے لوگوں کوبھی برابری کا درجہ ملے۔
    اس موقع پر نشاد پارٹی کے ضلع صدر اِندردیو نشاد نے کہا کہ آج تک سبھی پارٹیوں نے اپنے چہیتوں اوررشتہ داروںکو فائدہ پہونچانے کا کام کیا ہے، ایسے میںاس بار عوام نے ان سبھی پارٹیوں کو سبق سکھانے کا من بنا لیا ہے، انہوں نے کہا کہ پیس پارٹی ونشاد پارٹی اتحاد کی حکومت بنی تو لوگوں کو برابری کا درجہ روٹی کپڑا اور مکان دینے کا کام کرے گی۔ اس موقع پر پیس پارٹی کے ضلع صدر اسداللہ خاں، نشاد پارٹی کے ہری نرائن نشاد، رمیش چندر نشاد ، سنتوش کمار پرجاپتی وڈاکٹر عزیز عالم خاں وغیرہ موجود رہے۔
فوٹوکیپشن:351,352بستی صدر سے پیس پارٹی ونشاد پارٹی کے امیدواراَمر پال

Wednesday, 11 January 2017

28वें सड़क सुरक्षा सप्ताह के तहत आरटीओ दफ्तर के यातायात परिसर में वाहन चालकों का नेत्र परीक्षण किया गया

बस्ती : 28वें सड़क सुरक्षा सप्ताह के तहत आयोजित किये जा रहे कार्यक्रमों की श्रंखला में आरटीओ दफ्तर के यातायात परिसर में वाहन चालकों का नेत्र परीक्षण किया गया। इस अवसर पर कार्यालय में ड्राइिंवग लाइसेंस बनवाने आये अभ्यर्थियों तथा टैम्पो व स्कूल वाहन चालकों का नेत्र विशेषज्ञ डिप्टी सीएमओ डा0 सीएल कन्नौजिया द्वारा पेत्र परीक्षण किया गया। 
डा0 कन्नौजिया ने आखों को सेहतमंद रखने के तरीके बताने के साथ साथ यह भी कहा कि वाहन चालकों के लिये आखों का स्वस्थ रहना बेहद जरूरी है। ढलती उम्र या विशेष परिस्थितियों में आखों पर उचित गुणवत्ता के चश्मे हमे किसी वस्तु को देखने आसापी से देखने में मदद करते हैं। काफी हद तक इससे सड़क हादसों में भी कमी लायी जा सकती है। नेत्र परीक्षण शिविर में विभाग के प्रवर्तन चालक शिव कैलाश, वकील अहमद, अनूप कुमार, रविशंकर, नजीबुल्लाह सहित तमाम लोगों का नेत्र परीक्षण हुआ। एआरटीओ प्रवर्तन अरूण कुमार ने बताया कि आरटीओ प्रवर्तन अनिल कुमार श्रीवास्तव के मार्गदर्शन में शहर के अन्य हिस्सों में खास खास जगहों पर भी नेत्र परीक्षण के शिविर लगाये जायेंगे। आरआई शिवबसन्त राम, इबरार अहमद, धर्मेन्द्र कुमार, विनोद कुमार श्रीवास्तव, राकेश तिवारी, प्रवीण कुमार गौतम, शिवानंद सिंह, शिवकुमार, सचिन शुक्ला, रमेश तथा प्रवर्तन दल के सिपाही उपस्थित थे।

गणतन्त्र दिवस समारोह से संबंधित तैयारी बैठक सम्पन्न हुयी

बस्ती : जनपद में गणतन्त्र दिवस समारोह के आयोजन से संबंधित तैयारी बैठक मुख्य विकास अधिकारी श्री अंजनी कुमार सिंह की अध्यक्षता में स्थानीय सदर तहसील सभागार में सम्पन्न हुयी। 
मुख्य विकास अधिकारी श्री सिंह ने सभी संबंधित अधिकारियों, पत्रकारों एवं उपस्थित गणमान्य व्यक्तियों से गणतन्त्र दिवस को पूरी श्रद्धा, आत्मियता एवं गरिमा के साथ मनाने की अपील करते हुए कहा कि 26 जनवरी गणतन्त्र दिवस का पावन राष्ट्रीय पर्व देश के नागरिकों को देश सेवा के प्रति समर्पण की भावना परिलक्षित करने का खाश अवसर है।बैठक में गणतन्त्र दिवस मनाये जाने के संबंध में विस्तृत रूप रेखा पर विचार विमर्श किया गया। गणतन्त्र दिवस के अवसर पर बस्ती शहर मंें प्रभात फेरियों के आयोजन की रूपरेखा तैयार की गयी तथा आवश्यकतानुसार प्रभात फेरी के समय बच्चों के सुरक्षा हेतु टैªफिक व्यवस्था को चुस्त रखे जाने के निर्देश दिये गये। इसी प्रकार ग्रामीण ़क्षेत्रों के स्कूलों में भी प्रभात फेरियों का आयोजन किया जायेंगा। इसके संयोजन का दायित्व जिला विद्यालय निरीक्षक एवं जिला बेसिक शिक्षा अधिकारी को सौपा गया। निर्धारित कार्यक्रम के अनुसार गणतन्त्र दिवस के उपलक्ष्य में सरकारी भवनों पर प्रातः 8.30 बजे ध्वजारोहण किया जायेंगा। तय कार्यक्रम के अनुसार प्रातः 09.00 बजे जनपद मुख्यालय पर स्थित महापुरूषों की प्रतिमाओं तथा शहीद स्तम्भ पर माल्यार्पण किया जायेंगा। इस संबंध में मुख्य विकास अधिकारी ने ई0ओं0 नगर पालिका को महापुरूषों की प्रतिमाओं तथा शहीद स्तम्भों की साफ-सफाई व्यवस्था सुनिश्चित करने के निर्देश दिये।
गणतन्त्र दिवस के अवसर पर शहीद स्मारक छावनी तथा अमोढा में शहीद स्मारक स्थल पर मेला एवं ध्वजारोहण का कार्यक्रम संयोजित कराये जायेंगे। दोपहर 12 बजे से 01 बजे के बीच चिकित्सालयों एवं कुष्ट आश्रम के मरीजों के बीच फल वितरण का कार्यक्रम रखा गया है। 11बजे से 12.30 बजे के बीच जिला कारागार में सांस्कृतिक कार्यक्रम व कवि सम्मेलन/मुसायरा का आयोजन किया जायेंगा। अपरान्ह 02 बजे से 04 बजे तक रूट मार्च का आयोजन होगा। इस में पुलिस, एनसीसी, होमगार्ड एवं प्रादेशित विकास दल के स्वयं सेवक हिस्सा लेंगे। अपरान्ह 02 बजे से गाॅधी कला भवन में लोक नृत्य प्रतियोगिता का आयोजन किया गया है।
मुख्य विकास अधिकारी श्री सिंह ने इस वर्ष गणतन्त्र दिवस के अवसर पर विधान सभा निर्वाचन की आदर्श आचार संहिता को ध्यान में रखते हुए विभिन्न विभागों द्वारा निकाली जाने वाली विकास से संबंधित झाकियों को स्थगित कर दिया है। अपरान्ह 3.30 बजे नगर पालिका सभाकक्ष में आयेाजित कार्यक्रम में सभा संयोजन के दौरान श्री सिंह ने मतदाता जागरूकता विषय पर चर्चा एवं इस सन्दर्भ में आमजन को जागरूक करने संबंधी नीतियों पर चर्चा करने के निर्देश दियें। मुख्य विकास अधिकारी श्री सिंह ने देश सेवा में शतप्रतिशत एवं निष्पक्ष मतदान की भूमिका को रेखाकिंत करते हुए इसके अधिकाधिक प्रचार-प्रसार करने का अपील किया। गणतन्त्र दिवस के कार्यक्रमों में ध्वजारोहण के बाद राष्ट्रीय एकता का संकल्प दोहराने का भी निर्णय लिया गया। स्कूलों में आयेाजित कार्यक्रमों में बाद-विवाद प्रतियोगिता, खेल-कूद, निबन्ध कला प्रतियोगिताओं को भी शामिल किया गया है। बैठक के दौरान विभिन्न विभागों के अधिकारियों सहित वरिष्ठ पत्रकार श्री जगवीर, श्री राजेन्द्र नाथ मतवाला, श्री पंकज सोनी, श्री आशुतोष मिश्र आदि उपस्थित रहे।

मीडिया सर्टीफिकेशन एवं मानीटरिंग कमेटी की बैठक

فیوچر آف انڈیا کے بینر تلےاحتجاجی مظاہرہ۱۲؍جنوری کو


(سمریاواں سے سلمان کبیرنگری)
    سمریاواں،سنت کبیرنگر:فیوچر آف انڈیا کے بینر تلے کل ۱۲؍جنوری بروز جمعرات ۱۱ بجے دن میں سمر یاواں بلاک کے کیمپس میں عوامی مسائل کولے کر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا،مقامی نمائندہ سلمان کبیرنگر ی کے مطابق فیوچر آف انڈیا کے بانی مظہر آزاد نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس احتجاجی جلسہ امبیڈکر چیتنا منچ کے صدر انل گوتم . سوشل پروگریس آف انڈیا کے صدرمحمد ظفر خان وبھارتیہ جن سنسد کے جنرل سکریٹری کلدیپ ناتھ شکلا وغیرہ خطاب کریں گے۔جلسہ کے اختتام کے بعد ایس ڈی ایم کے ذریعہ وزیر اعظم اور گورنر کے نام منسوب میمورنڈم بھیجا جائے گا۔ اس موقع پر ترقیاتی بلاک سمریاواں سے یواسنگھرش سمیتی کے عہدیدران نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فیوچر آف آف انڈیا کے بینر تلے ہورہے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کرتے ہوئے اپنی ملی بیداری کا ثبوت دیں۔اپیل کنندگان میں رضوان منیر. سلمان عارف ندوی. عبدالعظیم. ظفیر چودھری. سلمان کبیر نگری. شعیب اختر. علقمہ حسین کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

کیسی رہی اوباما کی مدت کارکردگی؟

(انٹرنیشنل ایجنسی)
    واشنگٹن:آٹھ سال پہلے امریکی صدر براک اوباما تبدیلی اور امید کا پیغام لے کر آئے تھے. آٹھ سال کے بعد اب ہوا بدل چکی ہے. امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ بٹا ہوا نظر آ رہا ہے، باہمی درار اور گہری ہو گئی ہیں. اوباما کی تقریر میں باتیں تو امید کی تھیں، ایک بہتر مستقبل کی تھی لیکن کافی حد تک آنے والے دنوں کے لئے ایک فکر کی جھلک بھی تھی. شاید اس وجہ سے کسی کا نام لئے بغیر، کسی پر انگلی اٹھائے بغیر اوباما نے عوام سے امریکی جمہوریت کے اقدار کی حفاظت کے لئے چوکنا رہنے کی اپیل کی. یہ کافی جذباتی موقع تھا. نہ صرف صدر اوباما کے لئے بلکہ اس امریکی عوام کے لئے بھی جس نے ان امید اور تبدیلی کے پیغام کو گلے لگایا تھا.
              اوباما کئی ہفتوں سے اس الوداعی تقریر کی تیاری کر رہے تھے. اس تقریر کے كر ڈرافٹ تیار کئے اور بدلے گئے ہیں. اوباما نے یہ تقریر امریکی صدر کے سرکاری رہائش گاہ وايٹ ہاؤس کے اندر دینے کی بجائے اپنے آبائی شہر شکاگو سے دینے کا فیصلہ کیا ہے. جبکہ عام طور پر یہ رواج رہا ہے کہ صدر وايٹ ہاؤس سے اپنا الوداعی تقریر کرتے ہیں. شکاگو کو منتخب کرنے کے پیچھے جو اہم وجہ ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اوبما کا سیاسی کیریئر یہیں سے شروع ہوا تھا. اوباما نے اس میں بہتر مستقبل کی طرف اشارہ بھی کیا ہے .ایک پیگام وہ جو شاید دینا چاہتے ہیں کہ وہ تنوع اور انصاف سے منسلک ہے. ان کا خیال ہے کہ یہی دونوں باتیں امریکہ کو آگے لے جائیں گی. بہت لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ خطاب ایک طرح سے ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے پیغام بھی ہے. ٹرمپ نے اپنے انتخابی مہم میں ملک کو کافی حد پولرائزڈ کیا تھا. مجھے یاد کہ آٹھ سال پہلے اپنی جیت کے بعد جب اوباما نے شکاگو میں اپنا تقریر کی تھی تو کافی لوگ جذباتی ہو گئے تھے. خاص طور پر افریقی امریکی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے.
           آج شکاگو كپكپاتي سردی میں بھی تقریبا بیس ہزار لوگ ان کی تقریر سننے کے لئے آئے تھے جاهر ہے یہ ان کے لئے کافی جذباتی لمحے پڑے گا ہے. صدر کے بطور ان کی کامیابیوں کی بات کریں تو ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ وہ آٹھ سال کے اپنے دور میں ایک انتہائی مقبول صدر رہے ہیں. ان کی درجہ بندی آسمان چھو رہی ہے. وہ جارج ڈبلو بش سے کہیں آگے ہیں. بل کلنٹن جو کہ ایک بہت مقبول صدر رہے ہیں، اوباما کی مقبولیت میں ان سے بھی آگے ہیں.
       امریکہ کی تاریخ میں انہیں ہمیشہ سب سے پہلے 'سیاہ' یا افریقی امریکی صدر کے طور پر یاد کیا جائے گا. دوسرے ان کو اوباما کیئر کے لئے یاد کیا جائے گا. امریکہ کے لوگوں کی صحت کی خدمات کے دائرے میں لانے کے لئے یاد رکھا جائے گا. بہت ماہرین کے مطابق اوباما کے چار چار سالوں کے دونوں سیشن میں انہی دونوں باتوں کا اثر رہا ہے. 2016 کے انتخابات میں بھی ان باتوں کا تاثر نظر آئی. سال 2008 کی اقتصادی کساد بازاری سے وہ امریکی معیشت کو باہر نکال کر لائے. ایران سے ہوا جوہری معاہدہ بھی ان کی ایک بڑی کامیابی میں شمار ہوگا. کیوبا کے ساتھ تعلقات بحال کرنا اور پیرس ماحولیاتی کانفرنس کے دوران بھارت اور چین کو پانی ہوا معاہدے کے لئے تیار کرنا بھی ایک اہم کامیابی مانی جائیں گی. اس کے ساتھ ہی ان کی خارجہ پالیسی کی کافی تنقید ہوئی ہے. خاص طور پر شام میں بشار الاسد کے خلاف كارروار نہ کرنے کو ان کی بڑی کمزوری کے طور پر دیکھا گیا. اوباما کے ناقدین کے مطابق ساری دنیا میں ان کی قیادت میں امریکہ کے دبدبے میں کمی آئی تھی. ایک ھالیپن ابرا خاص طور پر مشرق وسطی میں، جہاں روس اور ایران کا دبدبہ بڑھا. اوباما نے اپنے ان ناقدین کو یہ کہہ کر جواب دیا تھا کہ امریکہ کو دنیا کا پلسمےن بننے کی ضرورت نہیں ہے.

جیلوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد، آخر کیوں؟

طالبہ صفیہ خاتون             پروفیسر راگھون                      عبادرالرحمان
   ممبئی :بھارت میں مسلمانوں کا الزام ہے کہ ملک میں جیلوں کی اونچی دیواروں کے پیچھے ان گنت قصے ہیں. سرکاری اعداد وشمار بھی بہت حد تک اس کی تصدیق کرتے ہیں. مہاراشٹر میں ہر تین میں سے ایک قیدی مسلمان ہے لیکن ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ صرف ساڑھے 11 فیصد ہے. یہی تصویر کم و بیش پورے ملک میں نظر آتی ہے اور مسلمان نوجوان مانتے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک منظم سوچ کام کرتی ہے. تاہم اس معاملے پر ممبئی میں واقع ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے پروفیسر فتح راگھون کا کہنا ہے صرف ایک فیصد قیدی ہی دہشت گردی اور منظم جرائم جیسے سنگین مقدمات میں جیلوں میں بند ہیں جبکہ باقی قیدی عام جرائم کے لئے وہاں ہیں. ان کا کہنا ہے کہ ان کے جرم زمین جائداد اور خاندانی تنازعات سے جڑے ہوئے ہیں نہ کہ منظم جرائم کے زمرے میں آتے ہیں. ممبئی میں ہم نے مسلم نوجوانوں سے اس معاملے پر بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ جہاں اس میں حکومت کی جانب سے امتیازی سلوک ہے وہیں مسلمانوں کی غلطیاں بھی ہیں. ایک سکول صفیہ خاتون نے بتایا، "مسلمانوں میں تعلیم کی کمی ہے، تربیت کی کمی ہے، روزگار کی کمی ہے. خود انسانیت سے ہم گرتے جا رہے ہیں. مذہب سے دور ہوتے جا رہے ہیں. اس میں حکومت کا امتیازی سلوک بھرا رویہ ہے تو کچھ ہم وطنوں کی سازشیں بھی شامل ہیں. "
       انہوں نے کہا، "دوسرے کمیونٹی والے مسلمانوں کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے اس لئے انہیں پھنسا بھی دیا جاتا ہے جبکہ کچھ حد تک میڈیا بھی اس کے لئے ذمہ دار ہے. ممبئی کے ایک نوجوان عبادالرحمان نے جیلوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کو غربت کا نتیجہ بتایا ان کا کہنا تھا، "مسلمانوں میں بہت غربت ہے. لوگ چھوٹی موٹی چوريا کرتے ہیں اور اس کے لئے سالوں تک جیل میں رہتے ہیں. ان سے پوچھو تو کہتے ہیں ان کے پاس ضمانت کے لئے پیسے نہیں ہیں. رقم چھوٹی ہوتی ہے دو ہزار، تین ہزار لیکن وہ ضمانت کے اتنے پیسے بھی عدالت میں جمع نہیں کرا پاتے اور اس وجہ سے جیلوں میں پڑے رہتے ہیں. "حکومت نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بھارت کی 1387 جیلوں میں 82 ہزار سے زیادہ قیدی مسلمان ہیں جن میں سے تقریبا 60 ہزار التواء قیدی ہیں. "
         پروفیسر راگھون کا کہنا ہے کمزور طبقے کے پاس خود کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے قانونی وسائل نہیں ہوتے ہیں اس لئے بھی جیلوں میں ان کی تعداد زیادہ ہے. جبکہ ایک خاتون رابعہ خاتون کا کہنا ہے، "مسلمان بہت لاپرواہی برتتے ہیں. مذہب میں جو صحیح راستے بتائے گئے ہیں، ہم ان راہوں سے بھٹک گئے ہیں اور انسان جب گھوم جائے گا تو کچھ بھی کرنے سے گریز نہیں کرے گا." مہاراشٹر کے ہی ایک نوجوان منور یوسف کا کہنا ہے، "مسلمانوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے. انہیں ہر قدم پر ان کی وفاداری ثابت کرنا پڑتی ہے لیکن دوسرے فرقے کے لوگ چاہے کچھ بھی کریں، ان کی حب الوطنی کو قبول کیا جاتا ہے. " پروفیسر راگھون کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق میں جہاں یہ پتہ چلا کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک ہوتا ہے وہیں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کی اقتصادی حالت اتنی خراب ہے کہ انہیں جرم کی طرف آسانی سے دھکیلا جا سکتا ہے.
      مسلم نوجوانوں میں عام تاثر یہ ہے کہ 'دہشت گردی' کے الزام سے بری ہونے والوں کو معاشرے کے معزز شہری بنانے کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے. صرف شک کی بنیاد پر ان کی زندگی تباہ ہو جاتا ہے ملک بھر میں ایسے سینکڑوں لوگ ہیں جو دس دس سال بعد بے گناہ ثابت ہوئے اور انہیں باعزت رہائی دی گئی. اسی بارے میں ایک کمپنی میں کام کرنے والے نظرل حسن کا کہنا ہے، "جو معصوم پکڑے جاتے ہیں انہیں نہ کوئی معاوضہ دیا جاتا ہے اور نہ حکومت کی جانب سے ایسے وسائل پیدا کئے جاتے ہیں کہ وہ اپنا گزارا کر سکیں یا زندگی دوبارہ شروع کر سکیں. "
        ماہرین کے مطابق پولیس فورس میں اقلیتوں کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے. ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز میں مسلمانوں کا تناسب صرف چار فیصد ہے. یہ ان کی آبادی کے تناسب میں بہت کم ہے. توازن کا ہدف حاصل کرنے کے لئے منزل ابھی دور ہے اور اس وقت تک عدالتوں کے چکر لگتے رہیں گے اور جیلوں کے دروازے مسلم قیدیوں پر یوں ہی کھلتے رہیں گے.

Tuesday, 10 January 2017

छात्र संसद का संपन्न हुआ चुनाव

(सदा ए हक़ ब्यूरो न्यूज़)
बस्ती : नेशनल एसोसिएशन ऑफ़ यूथ के तत्वाधान में महंसो के विजय प्रताप इन्टर कॉलेज में छात्र संसद की स्थापना के साथ ही साथ छात्र संसद का चुनाव सम्पन्न हुआ | छात्र संसद के चुनाव में प्रत्येक कक्षा से सांसदों का चुनाव हुआ और फिर सांसदों के बीच से प्रधनमंत्री पद की उम्मीदवारी के लिए समर, आकाश, पूर्णिमा, नैंसी, उमा, अनिकेत, साहुल और श्रेया ने नामांकन किया। चुनाव के लिए भाषण प्रतियोगिता के बाद खुले मतदान से सबसे ज्यादा वोट पाकर नैंसी को प्रधानमंत्री चुना गया और आकाश नेता विपक्ष चुने गए ।

           शुक्रवार को एकदिवसीय शीतकालीन सत्र चलने का फैसला प्रधानाचार्य अरुण कुमार सिंह ने किया, छात्र संसद संयोजन की जिम्मेदारी मयंक मिश्र को दी गयी, सत्ता पक्ष के मार्गदर्शन की जिम्मेदारी डॉ विनोद राय को दी गयी एवम विपक्ष के मार्गदर्शन की जिम्मेदारी विपिन मिश्र को दी गयी। एसोसिएशन के अध्यक्ष भावेष पाण्डेय ने छात्र छात्राओं को संबोधित करते हुए कहा कि इस तरह के आयोजन से विद्यार्थियों में नेतृत्व क्षमता का विकास होता है और उनका मुखर स्वभाव और निखरता है । योगेश पाण्डेय ने सांसदों को संसद के नियमों से रूबरू कराया।

निर्वाचन-2017 के मतदान दिवस 27 फरवरी को शत प्रतिशत मतदाताओं को वोट डालने के लिए प्रेरित किया जाय: नरेन्द्र पटेल

बस्ती :, आगामी विधान सभा सामान्य निर्वाचन-2017 के मतदान दिवस 27 फरवरी को शत प्रतिशत मतदाताओं को वोट डालने के लिए प्रेरित किया जाय। प्रयास यह किया जाना है कि कोई भी मतदाता मतदान से वंचित न रह जाय। इसके लिए आगामी 25 जनवरी को राष्टीय मतदाता दिवस पर प्रभावी कार्यक्रम आयोजित किया जायेगा।
इस आशय के विचार स्थानीय तहसील सभाकक्ष मंे आयोजित विद्यालयों के प्रबन्धकों, कोआर्डिनेटरों व अधिकारियों की बैठक को सम्बोधित करते हुए जिला निर्वाचन अधिकारी/जिलाधिकारी श्री नरेन्द्र संह पटेल ने व्यक्त किया। जिलाधिकारी श्री पटेल ने बैठक में उपस्थित विभिन्न विद्यालयों के प्रबन्धकों से कहा कि बालिका विद्यालयों में मतदाताओं का रूझान वोट डालने के लिए पुष्ट करने के लिए विषयगत रंगोली प्रतियोगिताएं आयोजित की जायें। इसके अतिरिक्त सभी विद्यालयों में निबन्ध लेखन, वाद विवाद तथा चित्रकला प्रतियोगिताएं भी आयोजित की जायंें। उत्कृष्ट प्रदर्शन करने वाले प्रतिभागियों को पुरस्कृृत किये जाने की भी योजना है।
जिलाधिकारी/जिला निर्वाचन अधिकारी श्री पटेल ने शत प्रतिशत वोट डालने वाले देश को उन्नत लोकतंत्र की संज्ञा देते हुए कहा कि मतदाताओं को अभिप्रेरित करने और जागरूकता उत्पन्न करने के अभियान में सभी बी0एल0ओ0, कोआर्डिनेटर, स्वैच्छिक संथाएं तथा सम्बन्धित अधिकारी, कर्मचारी बनायी गयी रणनीति के अनुसार पूरी ताकत से प्रभावी कार्य करना सुनिश्चित करें। इस क्रम में आगामी 14 जनवरी को पतंगबाजी की प्रतियोगिताएं आयोजित की जायंेगी। इसमें मतदाता जागरूकता के स्लोगन वाली ऊंची पतंग वाले पतंगबाज को भी पुरस्कृत किये जाने की योजना है। जिलाधिकारी ने उपस्थित लोगों को मतदाता जागरूकता का शपथ भी दिलाया। उन्होंने मानव श्रंृखला बनाने, रैली व गोष्ठियां भी आयोजित कराने का निर्देश दिया। श्री पटेल ने स्कूली बच्चों की टीम बनाकर वोट डालने मंे शिथिल रवैया अपनाने वालों को बूथों तक लाने की प्रेरणा दिलाने का निर्देश दिया।
अपर जिलाधिकारी/उप जिला निर्वाचन अधिकारी श्री संतोष कुमार राय ने आगामी 25 जनवरी को राष्टीय मतदाता दिवस पर मार्च पास्ट निकाले जाने और नये मतदाताओं को मतदाता कार्ड वितरित किये जाने की जानकारी दिया। मुख्य विकास अधिकारी श्री अंजनी कुमार सिंह ने बताया कि आगामी 15 जनवरी को सेना दिवस पर एन0सी0सी0, एन0एस0एस0 व पूर्व सैनिकों के सहयोग से मतदाताओं के जागरूकता अभियान को अपेक्षित गति दिया जाय। जिला विकास अधिकारी श्री डी0डी0 शुक्ल ने मतदाता दिवस पर आयोजित होने वाले विविध कार्यक्रमों को गुणवत्तापूर्ण ढंग से संचालित कराने की अपील किया।

ضلعی جمعیت اہلحدیث گوونڈی کے زیر اہتمام دینی واصلاحی اجلاس عام کا انعقاد





(گوونڈی ممبئی سے ہلال ہدایت کی رپورٹ)
    گوونڈی،ممبئی :ضلعی جمعیت اہل حدیث نارتھ ایسٹ ممبئی کے زیر سرپرستی ایک روزہ ’دینی واصلاحی‘ اجلاس عام پیرکی شام بعد نماز مغرب تا10؍ بجے شب جامع مسجد اہل حدیث ومدرسہ رحمانیہگوونڈی ممبئی میںمنعقدہوا، جس کی صدارت مولاناجلال الدین فیضیؔ حفظہ اللہ (امیر ضلعی جمعیت اہل حدیث نارتھ ایسٹ ممبئی)اورنظامت کے فرائض مولانا فیض الرحمن الرحمانی؍نائب ایڈیٹرماہنامہ ’الاتحاد‘ممبئی نے انجام دی۔اس اجلاس میں ملک کے معروف خطیب مولانا عبد الغفار سلفی حفظہ اللہ (ریسرچ اسکالر بنارس ہندویونیورسٹی ،بنارس)اور مولانا مصطفی اجمل مدنی ؍حفظہ اللہ(استاذِحدیث جامعہ اسلامیہ کوسہ،ممبرا)نے خطاب کیا۔مولانامصطفی اجمل مدنی نے’ توکل علی اللہ اوراس کی جھلکیاں‘کے موضوع پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج کا مسلمان اللہ پربھروسہ نہیں کرتا،حالانکہ اللہ ہرچیزکوفراہم کرتاہے ۔ لوگ قرآن کی تلاوت کرتے اوراللہ کے صفاتی ناموں کاوردتوکرتے ہیں لیکن انہیں اس کے حقیقی مفہوم کاعلم نہیں ہوتاجیسے کہ اللہ رزاق ہے،اس کامطلب یہ ہواکہ تمام قسم کی غذاصرف وہی فراہم کرسکتاہے اب کسی اورسے مانگنے یاغیراللہ کے سامنے سربسجودہونے کی قطعی حاجت نہیں ہے۔مولانانے مزیدکہاکہ توکل دراصل اللہ تعالی پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کا نام ہے۔ اپنے تمام معاملات میں خواہ ان کا تعلق حصول منفعت سے ہو یا دفع مضرت سے اللہ تعالی پر بالکلیہ اعتماد کرناچاہئے۔توکل عظیم عبادت ہے جسے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف پھیرنا جائز نہیں، مومن صادق اپنے سارے معاملات میں محض اللہ تعالی پر بھروسہ کرتا ہے، چاہے رزق کی طلب ہو، مدد کی طلب ہو، شفا وعافیت کی طلب ہو، یا مشکلات سے نجات کی خواہش۔ وہ اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی رازق نہیں، وہی ذات عطا کرنے والی ہے، اور وہی ذات چھیننے والی بھی ہے اللہ کافرمان’اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ تعالی پر بھروسہ کرو‘جاؤپکارو! پھر اُن کو چاہیے کہ وہ تمہارا کہنا پورا کر دیں اگرتم اپنے دعوی میں سچے ہو کہ واقعی وہ تمہاری سنتے اور ضرورت پوری کرتے ہیں۔مولانانے اخیرمیں انبیاء کرام کے واقعات بیان کیاجس میں انہوں نے محض اللہ پربھروسہ کرکے صبرکی گھڑیاں گزاریں۔ان کے مولاناعبدالغفارسلفی نے ’امام اعظم کون؟‘کے موضوع پرکتاب وسنت اورعلماء سلف کی کتابوں سے مدلل خطاب کیا۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہااس کائنات میں انبیاء کرام کی ذات سب سے مقدس ہے اورمعراج کی رات اللہ کے رسول ﷺنے تمام انبیاء کرام کوامامت کروائی اس لیے امام اعظم صرف اورصرف رسول ﷺہیں۔انہوں نے مزیدکہ کہا’اللہ کے رسول صادق مصدوق ہیں اس لیے ان کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی جسے بغیرتامل کے قبول کرناایک مومن کے لیے بے حدضروری ہے،آپ کے علاوہ بنی نوع آدم سے غلطی ہوسکتی ہے۔ قرآن وسنت کے علاوہ دوسری باتوںمیں احتمال کی بنیادپررد واخذ کاامکان قائم ہے۔ مولانانے دوران خطاب صحابہ کرام اورسلف صالحین کی؛ اللہ کے رسول سے والہانہ محبت کابھی تذکرہ کیا۔
    علاوہ ازیںمولانامعروف احمدسلفی نے ’حسداوراس کے نقصانات ‘پرقرآن وحدیث کی روشنی میں گفتگوکی۔اس موقع پرجامع مسجداہل حدیث ومدرسہ رحمانیہ کے عہدیدران واساتذہ کرام موجود رہے جن میں مولانامحمدسلمان سراجی،عبدالکریم صاحب،مولانا ہلال احمدسلفی(ایڈیٹرماہنامہ الاتحاد)ممبئی،مولانامقصود عالم سلفی،عبدالنورسلفی،محمدعرفان سراجی،قاری عرفان احمد،مولاناعبدالاول ایس کے نگری کے اسماء قابل ذکر ہیں۔اجلاس میں مقامی لوگوں کی کثیرتعدادموجودرہی جنہوں نے ہمہ تن گوش ہوکرعلماء کرام کے بیانات کوسنا۔

Monday, 9 January 2017

حج 2017 کے دوران عازمین کی سہولت کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں: محبوب علی قیصر

(ایجنسی)
نئی دہلی۔  مرکزی حج کمیٹی کے چیئرمین اور ممبر پارلیمنٹ محبوب علی قیصر نے آج دعوی کیا کہ حج ۔ 2017 کے دوران عازمین کو مزید سہولتیں فراہم کرانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ یہاں منعقدہ مرکزی حج کمیٹی اور دہلی اسسٹنٹ حج کمیٹی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں مسٹر قیصر نے کہا کہ حج 2016 صحیح سلامت اور خیر و عافیت کے ساتھ مکمل ہوئے اور اس وقت جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی مرکزی حج کمیٹی حکومت ہند اور سعودی حکومت کے تعاون سے ان خامیوں کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ تاکہ عازمین کو مدینہ اور مکہ میں حرمین شریفین تک جانے کے لئے زیادہ مسافت اور ٹرانسپورٹ کی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ہندوستانی عازمین کے قیام کے لئے حرمین شریفین سے قریب جگہ کا انتظام کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 جنوری سے اب تک ممبئی میں سفر حج پر جانے والے 32 ہزار خواہشمندوں نے درخواستیں دی ہیں، جن میں سے 27 ہزار درخواستیں آن لائن بھری گئی ہیں ۔ جو کل تعداد82 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ گیارہ جنوری کو مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کی زیر قیادت ہندوستانی وفد سعودی حکومت کے ساتھ حج سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کرے گا جس میں تخفیف شدہ ہندوستانی عازمین کے 20 فیصد کوٹے کو باقاعدہ طریقے پر بحال کرنے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ محبوب علی قیصر نے کہا کہ مرکزی حج کمیٹی نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے ملک کی تمام ریاستوں میں عازمین حج کے لئے بینک کا خصوصی حج کاؤنٹر کھولنے کی درخواست کی ہے، جس پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن انہیں امید ہے کہ ایس بی آئی اس سمت میں جلد از جلد مثبت اقدامات کرے گا۔ انہوں نے 65 سال سے زائد عمر کے درخواست دہندگان سے پین  کارڈ مانگنے کے بینکوں کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بزرگ عازمین کو اس سے مستثنی کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ دہلی حج کمیٹی کے چیئرمین اور ممبر اسمبلی محمد اشراق خان نے پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے اس سال دہلی حج کمیٹی کے کوٹے میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کئے جانے کا پرزور مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی راجدھانی ہونے کی وجہ سے ملک بھر کی تمام ریاستوں کے لوگ دہلی میں رہتے ہیں۔ اس لئے دہلی حج کے کوٹے میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا چاہئے۔ دہلی حج کمیٹی کے ایگزیکیٹیو افسر اشفاق عارفی نے بتایا کہ دہلی حج کمیٹی نے حج منزل کے اندر ہی آن لائن فارم بھرنے اور کاغذات کے ذریعے فارم بھرنے کے ساتھ ساتھ حج سے متعلق تمام طرح کی سہولتیں دستیاب کرائی ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ نگر ، اوکھلا، لکشمی نگر، جعفر آباد، سلطانپور، اوکھلا انڈسٹریل ایریا، منڈا ولی سمیت دہلی کے بہت سے علاقوں میں حج فارم بھرنے کے لئے خصوصی کاؤنٹر کا انتظام کیا ہے۔ جس سے عازمین بخوبی استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دہلی حج کمیٹی کے ذریعے اب تک 1142 افراد نے حج کے لئے فارم بھرے ہیں۔ جن میں سے 46 فیصد نے آن لائن فارم بھرے ہیں۔

اسمبلی نے منظوری دی تو سزائے موت فوری نافذ کردوں گا، ترک صدر اردوان

اے این این 
انقرہ: ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے ایک بارپھر واضح کیاہے کہ اگرقومی اسمبلی نے سزائے موت پر عملدرآمد کو قبول کرلیا تو میں بھی اسکی منظوری دے دوں گا۔
صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کسی قاتل کومعاف کرنے کاحق حکومت کے پاس نہیں ہوتا، ہم معصوم انسانوں کا قتل کرنے والے ان بے حس انسانوں کی دیکھ بھال کرنے کے حق کے مالک نہیں ہیں، آنکھوں میں خون آتر آنیوالے قاتلوں کے ریورڑ باہمی تعاون کیساتھ ترکی میں حملے کررہے ہیں۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ترک صدرضلع ازمیرکی عدالت کے سامنے گزشتہ روزہونیوالے دہشت گردحملے سے متعلق بتایا اس دوران قبضہ کردہ اسلحہ، بم اور سازوسامان دہشت گردوں کے وہاں پروسیع پیمانے پرخون خرابہ کرنے کیلیے آنے کاثبوت پیش کرتاہے، پولیس اہلکاروں کے بہادرانہ اقدام کی بدولت دہشت گردوں کو چیک پوسٹ پرروکنے کی یاددہانی کرانے والے اردوان نے وضاحت کی کہ اس طریقے سے وسیع پیمانے کی تباہی کا سدباب کیا گیا ہے۔

Sunday, 8 January 2017

تحریری ،تقریری واسلامک کوئیز مقابلہ

یومِ جمہوریہ کے موقع پر تحریری ،تقریری واسلامک کوئیز مقابلہ ۲۶؍جنوری کو

(ایس۔ایچ۔بی)
    گورکھپور :یومِ جمہوریہ کے پرمسرت وجشن زریں موقع پر مدرسہ جامع الہدیٰ واقرأدینیات بھرپوروہ بختیار محلہ گورکھپور کے زیر اہتمام تحریری وتقریری اور اسلامک کوئیز مقابلہ ’بعنوان تحریک آزادی ٔ ہند میں مسلم علماء کرام وعوام کا کردار‘ کا انعقاد ۲۶؍جنوری کو کیا جائے گا، جس میں اسکول، کالج، یونیورسٹی اور مدارس ومکاتب کے طلبہ طالبات حصہ لے سکتے ہیں۔ مذکورہ اطلاع دیتے ہوئے ہدیٰ جامع مسجد کے امام وخطیب ومدرسہ جامع الہدیٰ کے پرنسپل مولاناحافظ محمد طلحہ قاسمی نے بتایا کہ تحریری(مضمون نویسی) وتقریری مقابلہ میں پہلی ،دوسری وتیسری پوزیشن حاصل کرنے والے امیدواروں کو بالترتیب ۱۵۰۰؍سے ۳۰۰۰؍روپئے نقد مع ایک ہزار روپئے کی کتابیں حوصلہ افزائی کیلئے دی جائیںگی۔ طلحہ قاسمی نے مزید بتایا کہ تحریری مقابلہ میں سرج الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، شیخ الہند مولانا محمودالحسن ؒ، شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنیؒ وسلطنت مغلیہ کے آخری بادشاہ بہادرشاہ ظفر ؒ کے عنوان پر ۱۰؍صفحات پر مشتمل مضمون نگاری کا مقابلہ ہوگا، اسی طرح تقریری مقابلہ میں سید احمد شہیدؒ، حجت الاسلام مولانا محمدقاسم نانوتویؒ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا محمدعلی جوہرؒ ومجاہد آزادی اشفاق اللہ خان کے عنوان پر ۸؍منٹ کا تقریری مقابلہ ہوگا جس میں حوالوں کے ساتھ نام کتب ،مصنفین وصفحہ نمبر درج کرنااور بتانا لازمی ہوگا۔واضح رہے کہ  اسلامک کوئیزوتقریری مقابلہ میں صرف طلبہ اور تحریری مقابلہ میں طلبہ وطالبات جو کسی بھی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ہوںحصہ لے سکتے ہیں ۔ خواہشمند امیدوار۱۵؍جنوری ۲۰۱۷ء تک مدرسہ جامع الہدیٰ واقرأ دینیات بھرپوروہ بختیار محلہ سے اپنا رجسٹریشن کرواکر ممبر ی کارڈ حاصل کرلیں، یاد رہے کہ مضمون جمع کرنے کی آخری تاریخ ۲۰؍جنوری شام ۵؍بجے تک طے کی گئی ہے اور تقریری واسلامک کوئیز مقابلہ ۲۶؍جنوری کو منعقدہوگا ۔

Friday, 6 January 2017

विधान सभा सामान्य निर्वाचन के आदर्श आचार संहिता के संबंध में एक्टिव मोड में आ जायें अधिकारी

बस्ती 06 जनवरी 2017, विधान सभा सामान्य निर्वाचन में लगाये गये सभी अधिकारी “ऐक्टिव मोड” में आय जाय। अपनी जिम्मेदारियों का निर्वहन सुचारू ढंग से करना सुनिश्चित कर ले। अपनी जिम्मेदारियों से भागने अथवा किसी प्रकार के बहाने से बाज आवें।निर्वाचन कार्य को शीर्ष प्राथमिकता देते हुए निर्विध्न, भयमुक्त व सकुशल निर्वाचन कराना सुनिश्चित करें। सभी लाइजन आफिसर अपने क्षेत्र की भैागोलिक जानकारी व्यवहारिक तौर पर पहले से कर ले।राजनीतिक दलों के प्रतिनिधिगण निर्वाचन में अपना रचनात्मक सहयोग दें। अधिकारीगण किसी समस्या को संज्ञान लाकर उसकी इतिश्री न समझे। समस्याओं का निदान किया जाना हर हाल में अपरिहार्य होगा। 
उक्त आशय के निर्देश जिलाधिकारी/जिला निर्वाचन अधिकारी श्री नरेन्द्र सिंह पटेल ने स्थानीय विकास भवन के कक्ष में निर्वााचन कार्य में लगाये गये प्रभारी अधिकारियों, राजनैतिक दलों के प्रतिनिधियों व लाइजन आफिसर्स की अलग-अलग बैठक में दिया। उन्होंने आगामी विधान परिषद चुनाव की तैयारियों की भी गहन समीक्षा किया तथा सभी कार्यवाहियों को सुचारू ढंग से संचालित कराये जाने का आवश्यक दिशा निर्देश दिया। विधान सभा सामान्य निर्वाचन के आदर्श आचार संहिता के संबंध में अपर जिला निर्वाचन अधिकारी श्री संतोष कुमार राय ने कहा कि आर्चाय संहिता का अक्षरशः अनुपालन सुनिश्चित कराया जाय। श्री राय ने कहा कि कोई राजनैतिक दल या उम्मीद वार ऐसे किसी क्रिया कलाप में सम्मिलित नही होगा, जिससे विद्यमान अन्तर्विरोधों में वृद्धि हो या पारसपरिक धृणा उत्तपन्न होने या विभिन्न धार्मिक या भाषायी जातियों या सम्प्रदायों के मध्य तनाव उत्पन्न होने की संभावना हों, जब भी किसी दल या प्रत्याशी द्वारा किसी अन्य राजनैतिक दल की आलोचना की जाय, तब उक्त आलोचना उनकी नीतियों तथा कार्यक्रमों, पूर्व अभिलेखों और कार्यो तक सीमित रहना चाहिए। निर्वाचन आयोग के दिशा निर्देशों के अनुसार मतप्राप्त करने के लिए जातिगत या साम्प्रदायिक भावनाओं की अपील कदापि नही की जायेंगी। मस्जिदों, गिरिजाधरों, मन्दिरों या अन्य पूजा स्थलों का प्रयोग निर्वाचन अभियान के मंच के रूप में नही किया जायेंगा। विधान सभा सामान्य निर्वाचन में सभी राजनैतिक दल और उम्मीदवार कर्तव्यनिष्ठापूर्वक ऐसे समस्त क्रियाकलापों से दूर रहेंगे, जो निर्वाचन के विधि के अधीन भ्रष्ट प्रथाए एवं अपराध है।
पुलिस अधीक्षक श्री शैलेष कुमार पाण्डेय ने भयमुक्त वातावरण में विधान सभा सामान्य निर्वाचन और विधान परिषद निर्वाचन को सम्पन्न कराने की प्रतिबद्धता दोहराते हुए कहा कि किसी भी असामाजिक तत्व को चुनाव में गड़बडी फैलाने की ढील कदापि नही दी जायेंगी। पर्याप्त मात्रा में पुलिस बलों की तैनाती की जा रही हैं। श्री पाण्डेय ने निर्वाचन कार्य में लगाये गये सभी अधिकारी, पुलिस अधिकारियों के साथ समन्वय स्थापित करते हुए अपने दायित्वों का निर्वहन करने की अपील की। पुलिस अधीक्षक श्री पाण्डेय ने बताया कि किसी सभा के आयोजकगण अनुमति लिए गये सभा में व्यवधान डालने वाले या अन्यथा अव्यवस्था फैलाने का प्रयास करने वाले व्यक्तियों से निपटने के लिए डियुटी पर तैनात पुलिस बल से अनिवार्य रूप से सहायकता प्राप्त करे। आयोजक स्वयं ऐसे व्यक्तियों के साथ कोई कार्यवाही ने करे।
जिला निर्वाचन अधिकारी/जिलाधिकारी श्री पटेल ने राजनैतिक दलों के प्रतिनिधियों व आचार्य संहिता अनुपालन कराने वाले अधिकारियों से स्पष्ट तौर पर कहा कि वाल राईटिंग पूर्णतया निषिद्ध किया गया है। बिना अनुमति के होडिंग और बैनर आदि भी नही लगाये जायेंगे, बिना अनुमति के किसी व्यक्ति के भूमि, भवन अहाते आदि में ध्वज दण्ड, बैनर आदि भी नही लगायें जायेंगा। श्री पटेल ने बताया कि किसी दल या उम्मीदवार को ंयह पहले ही सुनिश्चित कर लेना होगा कि क्या सभा के लिए प्रस्तावित स्थल पर कोई निषेधात्मक आदेश तो नही पारित हुए है, यदि ऐसे आदेश है तो उनका कड़ाई से अनुपालन किया जाना होगा। निर्वाचन व्यय लेखा की विस्तृत जानकारी देते हुए जिला निर्वाचन अधिकारी श्री पटेल ने बताया कि निर्वाचन व्यय को पारदर्शी ढंग से अनुरक्षित किया जाय। व्यय के लिए नये खाते खोल लिए जाय। 20 हजार रूपये से अधिक का भूगतान निर्वाचन व्यय खाते से ही किया जाय। यह भी सुनिश्चित किया जाय कि अन्य फुटकर भुगतान निर्वाचन व्यय हेतु खोले गये खाते से ही किया जाय। श्री पटेल ने जोर देकर कहा कि कंट्रोल रूम में सभी सूचनाए उपलब्ध किया जाना सुनिश्चित किया जाय। उन्होने स्पष्ट किया कि मंत्रीगण अपने शासकीय दौरो को निर्वाचन संबंधी प्रचार कार्य से नही जोडेंगे और निर्वाचन संबंधी प्रचार कार्य के दौरान सरकारी तंत्र या सरकारी कार्मिको का भी प्रयोग नही करेंगे। सरकारी वाहनों, सरकारी तंत्रों और कार्मिकों का उपयोग सत्तारूढ दल के हित को बढावा देने के लिए नही किया जायेगा। बैठक में निर्वाचन संचालन/कानून व्यवस्था तथा वर्न वैलिटी मैपिंग सामान्य व्यवस्था, सुनियोजित मतदाता शिक्षा एवं निर्वाचक सहभागिता, निर्वाचन व्यय लेखा एवं उससे संबंधित, निर्वाचन के दौरान विभिन्न अवसरों पर  मतदान के लिए वीडियोंग्राफी हेतु वीडियोंग्राफर एवं टेलीविजन, डिजिटल कैमरा/कम्युनिकेशन/लाइव वेव कास्टिंग एवं एसएमएस आधारित निर्वाचन सूचना प्रबंधन, यातायाता व्यवस्था/परिवहन एवं ईधन, इवीएम व्यवस्था, मास्टर टेªनर तैयार कराना, मतदान केेन्द्र एवं मतगणना केन्द्र, चुनाव शिकायते एवं विधि प्रकोष्ठ/हेल्प लाइन/काॅल सेण्टर, आदर्श आचार संहिता/विभिन्न टीमें, एमसीएमसी, फ््लाइंग स्क्वायर्ड, स्टेटिक सर्विलांस, वीडियों निगरानी टीम, वीडियों अवलोकन टीम, ईआरएमएस निर्वाचन नामावली एवं इपिक, लेखन सामाग्री, सूचना प्रौद्योगिकी कम्प्यूटराईजेशन, आईटी अप्लिकेशन, चिकित्सा व्यवस्था, विद्युत आपूर्ति, दिव्यांग मतदाता एवं उनको उपलब्ध करायी जाने वाली सुविधाए, स्ट्रांग रूम, विभिन्न कार्य स्थलों की सफाई एवं पेयजल व्यवस्था पर बिन्दुवार विस्तृत समीक्षा की गयी। जिला निर्वााचन अधिकारी श्री पटेल ने सभी अधिकारियों को निर्देशित करते हुए कहा कि अपनी जिम्मेदारियों का निर्वहन बेहतर ढंग से करें। जिस अधिकारी को जो दायित्व दिया गया है, उसको अच्छे तरीके से सम्पन्न करे।
इस अवसर पर प्रभारी अधिकारी कार्मिक/मुख्य विकास अधिकारी श्री अंजनी कुमार सिंह ने विधान सभा सामान्य निर्वाचन तथा विधान परिषद निर्वाचन में लगाये जाने वाले कार्मिको की व्यवस्था आदि के संबंध मे विस्तृत जानकारी उपलब्ध कराया। मुख्य कोषाधिकारी श्री गोपाल खरे ने निर्वाचन व्यय लेखा के लिए बनायी गयी रणनीत पर विस्तृत प्रकाश डाला। इस अवसर पर जिला ािवकास अधिकारी श्री डी0डी0 शुक्ला, सह प्रभारी व्यय लेखा श्री आलोक श्रीवास्तव, श्री अखिलेश पाठक, राजनीतिक दलों के प्रतिनिधियों में श्री पवन कुमार वीएसपी, श्री विवेकानन्द मिश्र वीजेपी, श्री के0के0 त्रिपाठी सीपीआईएम, श्री अशरफी लाल सीपीआई, श्री सियाराम सोनकर, गिरजेश पाल, प्रशान्त यादव समाजवादी पार्टी सहित सभी प्रभारी अधिकारी व लाइजन आफीसर उपस्थित रहे।