![]() |
| مکتوبات مولانا فاروق احمد مظاہری ؒ |
(بیورونیوز/نظام الدینن القاسمی)
بستی : خداوند کائنات کی مشیت ہی سے کائنات کی ساری چیزیں پُر رونق ہیں جب چاہے اوصاف ظاہری کو سلب کرلے اور جب چاہے وجود بخشے ،نور ایمان نور الٰہی سے مستفاد ہے ،ایمان جب اعمال صالحہ سے جلا پاتا ہے تو وہ بڑھتا ہے اور اپنے گرد ونواح کو بھی منور کرتا ہے ،بعثت نبوت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد تزکیہ ٔ نفس بھی ہے جن خاصان خدا نے اپنے آپ کو رذائل سے پاک کرلیا اور خصائل حمیدہ سے آراستہ کرلیا وہی لوگ کامیاب ہیں ،آجکل لوگ طرح طرح کی باطنی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور انکو یہ خبر بھی نہیں کہ یہ ہمارے لئے مہلک ہے اور ایمان کو ختم یا کمزور کردینے والا ہے اہل اللہ نے انہی باطنی بیماریوں کوپہچانا اور اور روحانی طبیبوں سے انکا علاج کرایا ۔مذکورہ باتیں صدر المدرسین دارالعلوم الاسلامیہ بستی مولانا نثار احمد قاسمی نے مدرسہ عربیہ اصلاح المسلمین جمداشاہی میں منعقدہ تقریب’’مکتوبات مولانا فاروق احمد مظاہریؒ‘‘ کی رسم اجراکے موقع پر صدارتی خطاب کے دوران کہیں۔ جس میں بستی،سنت کبیرنگر، سدھارتھ نگر وگورکھپور کے مشہور ومؤقر علماء ومشائخ نے شرکت کی۔
مولانا محمد عبد القیوم شاکر الاسعدی مہتمم مدرسہ اصلاحُ المسلمین جمداشاہی نے مولانا فاروق احمد مظاہری ؒ کے بارے میں مختصراً تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم مولانا فاروق احمد مظاہری ؒ نہ یہ کہ صرف وہ میرے چچا تھے بلکہ وہ ایک ولی صفت انسان تھے جنہوں نے بہت ہی کم عمر پائی، جس وقت مولانا مرحوم کاانتقال ہوا تو میری عمر تقریبا پانچ سال تھی جسے کم سنی کا زمانہ کہا جاتا ہے لیکن اُنکاچرچا اور نیکیوں کاتذکرہ خاندان والوں اور استاذ مولانا ہدایت علی ؒ سے بار بار سنتا رہتا۔ انہوں نے مولانا مرحوم کے تقوی طہارت اور شریعت وسنت کی پابندی کے مختلف واقعات کا ذکر فرمایا کہ آپ معمولی معمولی باتوں پر قوت سے عمل پیرا تھے ،تقوی طہارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح کے دو ہی طریقے ہیں ایک کتاب اللہ اور دوسرے رجال اللہ، اسی کڑھن اور جذبہ سے چچا محترم نے ۱۳۵۴ ھ میں مظاہر علوم سے سند فراغت اور علوم ظاہر کی تکمیل کے بعد علوم باطن کی تکمیل کے لئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒسے اپنا اصلاحی تعلق قائم فرمایا اور خط وکتابت جاری رکھا مگر جب بعد میں حکیم الامتؒ کو بینائی کا عذر ہوگیا تو چچا محترم نے مولانا عبد الرحمن کاملپوری ؒ سے اصلاحی تعلق قائم فرمایا اور یہ سلسلہ ۱۹ ؍ خطوط تک محفوظ تھا بقیہ اور اق دریدہ ہوکر ضائع ہوگئے ۔ یہ علمی خزانہ جو روحانی بیماریوں کے مختلف نسخوں پر مشتمل ہے کہیں ضائع نہ ہوجائے ہمارے رفیق مولانا محمد ساجد قاسمی نے بڑی دیدہ ریزی اور عرق ریزی سے ان خطوط کو پڑھا اورایک بصیرت افروز مقدمہ ومقالہ لکھ کر کتاب کو گنجینہ ٔ معرفت بنا کر چار چاند لگادیا اللہ مولانا کی اس علمی کاوش کو قبولیت سے نواز کر دارین میں فلاح سے نوازے۔
اس کے بعد مولانا معشوق احمد مظاہر ی نے اپنے بیان میں فرمایا کہ یہ کتاب تصوف کے فن میں ہے اور تصوف کا مطلب شریعت وسنت کی روشنی میں رسول اللہ ؐ کی زندگی کی طرح اپنی زندگی بنانا ،کیونکہ نبی ؐ معلم اخلاق تھے اور آپ کی زندگی ہمارے لئے نمونہ ہے ۔ لہذااپنے نبی کی حیات طیبہ اور اللہ والوں کی زندگی سے سبق اور عبرت حاصل کرکے انکے نقش قدم پر چلنے کی سعی اور کوشش کریں ۔مولانا ظہیر انوار قاسمی مہتمم دار العلوم الاسلامیہ نے اپنے تأثراتی کلمات میں کہا کہ مولانا مرحوم میرے دادا ہوتے تھے ،آپکا تذکرہ دیر تک سنا گیا اور جو کچھ اس مجلس میں بیان کیا گیا لا ریب وہ ان خوبیوں کے مالک تھے ،اللہ نے آپکو وہ عظمت وجلال عطا کیا تھا کہ اُس زمانہ میں بڑے زمیندار لوگ دھوتی پہنتے تھے مگر آپکے خوف سے کوئی شخص دھوتی نہ پہنتا اور جب کبھی مہمانی وغیرہ میں جاتا تو گاؤں کے باہر جاکر پہنتا اور باہر ہی اتار کر گاؤں میں داخل ہوتا ، آپکا خاندان آپ کی وجہ سے نیکیوں میں مشہور تھا ۔
تقریب الحاج معاشر اللہ انصاری( اے آر ٹی او گورکھپور) کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی، شرکاء تقریب میں مولانا امانت علی، ڈاکٹر عزیز الدین قاسمی، بھائی مطیع اللہ گورکھپور ، مولانا شمس الضـحی ،مولانا علاؤ الدین ،مولانا مطیع اللہ ، مولانا منصور احمد مظاہری ناظم مدرسہ بیت العلوم بنکے گاؤں، مولانا حفیظ الرحمن قاسمی خازن جمعیۃ علماء بستی،مولانا وصی اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء بستی ، مولانا انصار اللہ قاسمی دارالعلوم الاسلامیہ، مفتی سعید احمد ، مولانا محمد خطیب وغیرہم اور دیگر علماء واساتذہ مدرسہ ہذاکے اسماء قابل ذکر ہیں۔تقریب میں شرکاء کو کتاب’’ مکتوبات مولانا فاروق احمد مظاہری ‘ؒ‘ بطور ہدیہ پیش کی گئی، جسے سبھی شرکاء نے بصد خوشی قبول کیا ۔





















